خطبات محمود (جلد 25) — Page 221
خطبات محمود 221 $1944 کہتی ہے کہ تیرا باپ اسراف بہت کرتا ہے اگر اس سے کوئی ایک پیسہ مانگے تو پیسہ دے دیتا ہے، اگر دو آنے مانگے تو دو آنے دے دیتا ہے اور وہ اس قسم کا ہے کہ اگر کوئی اس سے سارا مال مانگے تو وہ سارا دے دے گا۔اور وہ اپنے بیٹے سے کہتی ہے کہ آؤ ہم اس سے سارا مال مانگ لیں ہیں۔وہ ہمیں دے دے گا۔تو پھر وہ دین کی راہ میں اس مال کو لٹانہ سکے گا۔میں نے رویا میں دیکھا کہ میں جماعت کے دوستوں کے سامنے عربی میں تقریر کر رہا ہوں اور یہ مثال دیتا ہوں کہ اس طرح ایک نیک آدمی تھا مگر اس کی بیوی نیک نہ تھی۔اس کا ایک بیٹا جو میں نہیں کہہ سکتا که خود نیک تھا یا بر انگر اُس کی ماں یہ ضرور سمجھتی تھی کہ وہ اسے اپنا آلہ کار بنا سکے گی۔وہ اُسے ہے کہتی ہے کہ تیرے باپ سے کوئی جو کچھ مانگے وہ اسے دے دیتا ہے اور ڈر ہے کہ اگر اُس سے کوئی سارا مال دین کے لیے مانگے تو وہ سارا مال دے دے گا۔اس لیے آؤ ہم اس سے سارا مال مانگ لیں۔اس طرح وہ خدا کی راہ میں اسے خرچ نہ کر سکے گا اور ہمیں نقصان نہ ہو گا۔یہ مثال دے کر میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ ایسے فتنے بھی آدمی کو پیش آسکتے ہیں۔ان سے ہوشیار رہو۔میں یہ کہہ ہی رہا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی اور میں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہیں جو دین کی راہ میں اپنا سارا مال خرچ کرنے کو تیار ہیں۔مگر یہ بھی خطرہ ہے ہے کہ اُن کی بیویاں اور بچے اُن کے لیے فتنہ بن جائیں۔پس پیشتر اس کے کہ وہ فتنہ بنیں، کیوں نہ ہم ہی ان سے دین کے لیے ان کی جائیدادیں طلب کریں۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسان میں ایمان کے اس درجہ پر قائم نہ ہو اس وقت تک وہ صحیح معنوں میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے والا میں نہیں ہو سکتا۔اس رویا نے مجھے اس طرف توجہ دلائی کہ جب مومن دین کے لیے سب کچھ خرچ کرنے کو تیار ہے تو اگر ہم اس سے ایسا مطالبہ نہ کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ اُس کے بیٹے اور اولادیں لے لیں۔پس پیشتر اس کے کہ اس طرح مومنوں کے مال ضائع ہوں کیوں نہ دین کے لیے انہیں لے لیا جائے۔پس اسی رؤیا کے ماتحت میں نے اس وقف کی تحریک کی اور دوستوں کو چاہیے کہ اس تحریک میں حصہ لیں۔یہ وقف ایسا ہے کہ ہم یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ ہمیں جائیدادیں دے دو۔صرف پابند کرتے ہیں کہ جب اور جتنا مطالبہ کیا جائے گا وہ پیش