خطبات محمود (جلد 25) — Page 220
$1944 220 خطبات محمود آمد نیاں وقف کی ہیں۔کسی نے ایک ماہ کی، کسی نے دو کی، کسی نے تین کی اور بعض تو ایسے ہیں جنہوں نے سال بھر کی آمد نیاں ہی وقف کی ہیں اور لکھا ہے کہ جب سلسلہ کو ضرورت ہو تو ہم سارے سال کی آمد دینے کو تیار ہیں۔خواہ ہمیں بھیک مانگ کر ہی گزارہ کرنا پڑے۔جب ہم سے مطالبہ کیا جائے گا ہم سارے سال کی آمد پیش کر دیں گے۔اگر دوست اس تحریک کی طرف پوری توجہ کرتے تو تین چار کروڑ روپیہ کی جائیدادیں وقف ہونا مشکل نہ تھا۔پس دوست ہے اس طرف توجہ کریں۔مگر اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ عام چندوں پر اس کا اثر نہ ہو۔یہ تحریک طوعی ہے اور ہر شخص کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ چاہے تو اس میں حصہ لے تا زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کر سکے۔جب کوئی چیز جماعت کے نظام میں داخل ہو جائے تو ہر شخص تو کو اس میں حصہ لینے پر مجبور کیا جاسکتا ہے اور وہ ہو بھی جاتے ہیں۔مگر ان کا ثواب اس قدر نہیں ہو تا۔اس لیے میں نے یہ تحریک محض طوعی رکھی ہے۔کسی پر جبر نہیں کہ اس میں حصہ لے۔اب میں پھر قادیان کے اُن دوستوں کو بھی جنہوں نے ابھی تک اس تحریک میں حصہ نہیں لیا مگر حصہ لینے کی خواہش رکھتے ہیں تحریک کرتا ہوں کہ اس میں شامل ہوں اور بیرونی جماعت کے دوستوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں۔وقت بہت تھوڑا اور کام بہت زیادہ ہے۔پس دوست حبلد اس تحریک میں اپنے نام پیش کریں تا ہم اندازہ کر سکیں کہ ضرورت کے وقت علاوہ انجمن اور تحریک جدید کے بجٹ کے کتنا روپیہ ہمیں مل سکتا ہے۔میرا اندازہ ہے کہ جماعت کے دوستوں کی ماہوار آمد پچاس ساٹھ لاکھ روپیہ ہے اور اگر دوست توجہ کریں تو کافی روپیہ ملنے کی امید ہو سکتی ہے۔یہ کام ابھی آہستہ آہستہ شروع ہو گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ربانی کام وہی ہے جو تھوڑا شروع ہو کر ترقی کرتا ہے۔غالبا ہم ابھی اس تحریک کے ماتحت اشد ضرورت کے وقت ایک فیصدی تک حصہ لینا شروع کریں گے۔مگر مومن کی نیت یہی ہونی چاہیے کہ اگر ساری جائیداد کی بھی دین کے لیے ضرورت ہو تو اسے دینے میں کوئی عذر نہ ہو گا۔مجھے ایک رؤیا میں اس تحریک کی طرف توجہ دلائی گئی تھی۔میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک عورت ہے جس کا خاوند نیک ہے مگر وہ خود نیک نہیں۔اس کا ایک بیٹا ہے۔وہ اس سے ہم