خطبات محمود (جلد 25) — Page 200
خطبات محمود 200 $1944 اور تحریروں سے میں ثابت کر سکتا ہوں۔میں نے جماعت کے روپیہ سے جائیداد نہیں بنائی۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے خود ہی مجھ کو جائیداد دی ہے۔چنانچہ آج بڑے سے بڑے دشمن کو بھی میں حساب دینے کے لیے تیار ہوں اور ثابت کر سکتا ہوں کہ میں نے جماعت کے روپیہ سے ہر گز کوئی ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے توقع سے بہت زیادہ جائیداد دی ہے۔جس کا قیاس اور وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا۔اس لیے پیشگوئی کے ذریعہ سے پہلے مجھے اس جائیداد کی خبر دی۔پھر ایسے سامان کیسے کہ معجزانہ رنگ میں وہ جائیداد مجھے مل گئی اور ہر قدم پر ایسے حالات پیدا ہوئے کہ جبر اوہ جائیداد مجھے لینی پڑی۔کہیں ہے کوئی مجبوری پیدا ہوئی اور اُس کی وجہ سے جائیداد لینی پڑی اور کہیں کوئی مصلحت نظر آئی تو جائیداد لینی پڑی۔بہر حال یاد رکھو خدا اپنے بندوں کو دیتا ہے اور ایسے طور پر دیتا ہے کہ بندہ لیتے لیتے تھک جاتا ہے۔پھر کیوں وہ خدا پر یقین اور توکل نہیں کرتے اور دنیوی کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔وہ خدا تعالیٰ پر توکل کریں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان میں ہونے کی وجہ سے جس طرح ہم تینوں بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی ہے کہ ہم نے اپنی زندگیاں دین کے لیے وقف کر دی ہیں اسی طرح وہ اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کے لیے وقف کر دیں، اپنی اولادوں کو خدا تعالیٰ کے لیے وقف کر دیں اور دنیوی کاموں کی بجائے دین کے کاموں اور اسلام کے احیاء میں حصہ لیں۔اگر وہ ایسا کریں گے تو اول تو میں انہیں بتاتا ہوں خدا انہیں فاقہ نہیں دے گا۔لیکن میں کہتا ہوں اگر خدائی مشیت کے ماتحت کسی وقت انہیں فاقہ بھی کرنا پڑے تو یہ فاقہ ہزاروں کھانوں سے زیادہ بہتر ہو گا۔اِس وقت دین پر ایک آفت آئی ہوئی ہے، اسلام ایک مصیبت میں مبتلا ہے اور اس کا وہی نقشہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان الفاظ میں کھینچا کہ بیکے شد دین احمد بی خویش دیار نیست پیچ ہر کسے درکار خود با دین احمد کار نیست 23 پس اے ابنائے فارس! تم کو یادرکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام