خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 179

خطبات محج محمود 179 $1944 درجات کو بلند فرمائے اور اپنے قرب کے دروازے اُس کے لیے کھولے۔پس چونکہ اس قد کی دعا کی خاطر میں نے کچھ دن متواتر اتم طاہر کی قبر پر جانا تھا اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ اس کے ساتھ ہی اسلام کی فتوحات کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر دعاؤں کا سلسلہ شروع کر دیا جائے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا جائے کہ اے اللہ ! تو نے ں شخص سے اسلام کی ترقی اور اس کی فتوحات کے متعلق کچھ وعدے کیے تھے۔یہ شخص اب فوت ہو چکا ہے اور تیرے یہ وعدے بہر حال ہمارے ذریعہ سے ہی پورے ہوں گے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے اندر ہزاروں قسم کی کمزوریاں اور کو تاہیاں پائی جاتی ہیں ہم میں ان مینی کمزوریوں کو دور کرنے کی طاقت نہیں لیکن تو اگر چاہے تو ان کمزوریوں کو بڑی آسانی سے دور کر سکتا ہے۔پس تو اپنے فضل سے ان کمزوریوں کو دور فرما اور اپنے اِس مامور اور پیارے محبوب سے جو تُو نے وعدے کیے ہوئے ہیں اُن کو پورا کرنے کے سامان پیدا فرمادے۔ہم کمزوروں کو طاقت بخش، ہم ناتوانوں کو قوت عطا فرما اور ہمارے اندر آپ اپنے فضل سے تغیر پیدا فرما تاکہ ہم دین کا جھنڈا دنیا میں گاڑ سکیں اور کفر کو نابود کر سکیں۔میں نے بتایا تھا کہ دعاؤں میں سے یہ قرآنی دعا بہت اعلیٰ درجہ کی ہے کہ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِى لِلْإِيْمَانِ أَنْ أَمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَأَمَنَا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ رَبَّنَا وَاتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيْمَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ C O بعض دوستوں نے اس کے متعلق کہا ہے کہ ایسا نہ ہو لوگوں میں اِس سے مشرکانہ خیالات پیدا ہو جائیں اور اصل حقیقت کو نہ سمجھتے ہوئے وہ قبروں سے استدعا کرنے لگ جائیں۔اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں ایسے جاہل لوگ موجود ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ قبروں پر دعا کرنے کے نتیجہ میں صاحب قبر اس دعا کو قبول کر کے انسان پر فضل نازل کیا کرتا ہے۔مگر کسی کی بدی کی وجہ سے ہم نیکی کو نہیں چھوڑ سکتے۔دیکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خانہ کعبہ میں بت رکھے ہوئے تھے۔مگر اللہ تعالیٰ نے حکم دے دیا کہ بیت المقدس کی بجائے کعبہ کی طرف اپنے منہ پھیر لو۔یہی وجہ ہے کہ یہودی اعتراض کیا کرتے تھے مَا وَلَهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا 7 کہ یہ مسلمان