خطبات محمود (جلد 25) — Page 156
$1944 156 9 خطبات محمود بندہ کا مقام ہر حالت میں راضی برضائے الہی رہنا ہے (فرمودہ 3 مارچ 1944ء بمقام لاہور ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: " آج مجھے شدید سر درد کا دورہ ہوا ہے اور اُمّم طاہر کی حالت بھی ایسی نازک ہے کہ میں زیادہ دیر باہر نہیں رہ سکتا اس لیے میں نہایت ہی اختصار کے ساتھ خطبہ بیان کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں نے ابھی واپس جانا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ یہ قانون بنایا ہوا ہے کہ وہ جہاں تک دعاؤں کا تعلق ہے ان کے ساتھ دوستانہ رنگ کا معاملہ رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ دعاؤں کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ بعض دفعہ تو اپنی مالکیت کا اظہار کرتا ہے اور بعض دفعہ اپنے فضل سے بندے کی دُعا کو قبول فرما لیتا ہے۔1 آقا کے سامنے غلام کی جرات نہیں ہوتی کہ وہ کوئی بات کرے مگر خدا باوجود آقا ہونے کے اپنے بندوں کو اجازت تا ہے کہ وہ اس سے دعائیں کریں، اس سے التجائیں کریں اور بعض دفعہ ناز اور بعض دفعہ نیاز سے اس سے مانگیں۔مگر فرماتے تھے خدا اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ بندہ آقا بننے کی کوشش کرے۔یعنی وہ یہ خیال کرلے کہ جو کچھ میں کہتا ہوں اللہ تعالیٰ اسے ضرور مان لے۔بے شک وہ دعائیں مانگے ، بے شک وہ اللہ تعالی پر امید رکھے کہ وہ اس کی دعاؤں کو قبول ہے