خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 150

خطبات محج محمود 150 $1944 ایک تاجر کی حیثیت سے مال دے دیں گے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ 1 یعنی جب کفار قرآن کریم کی تعلیم سنتے ہیں، اخلاق یا نظام قومی کے متعلق اسلامی ہدایات کا ان کو علم ہوتا ہے، ہمسایوں کے متعلق، عورتوں، خاوندوں، والدین، بچوں، غریبوں، مسافروں کے متعلق اسلام نے جو تعلیم دی ہے ، مزدوروں اور سرمایہ داروں کے بارہ میں جو احکام دیئے ہیں ان سے ان کو آگاہی ہوتی ہے اور ہر شخص دیکھتا ہے کہ اس میں اس کے حقوق کی حفاظت کی گئی ہے اور ایسے قوانین بنائے گئے ہیں کہ کوئی کسی کا حق نہ دیا سکے۔ہر ایک اطمینان حاصل کر سکے۔ایک مزدور جو رات دن اپنے مالکوں کے سے لڑائی جھگڑا کرتا ہے کہ میرا یہ حق نہیں ملا وہ نہیں ملا جب دیکھتا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم ایسی ہے کہ جس سے اس کے تمام حقوق محفوظ ہو جاتے ہیں تو وہ بے ساختہ پکار اٹھتا ہے کہ بات بڑی اچھی ہے۔اسی طرح عورتوں اور مردوں کا حال ہے۔ہر ایک کے حقوق کی حفاظت تسلی بخش طور پر اسلام نے کی ہے اور جو بھی اپنے متعلق اس کی تعلیم سے آگاہ ہوتا ہے وہ اس کی خوبی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔مگر اس کا نتیجہ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ اسے کہے گا کہ اے مسلمان! آتجھے میں جنت میں داخل کروں۔کیونکہ اس کے یہ معنے نہیں کہ اس شخص کے دل میں ایمان پیدا ہو چکا ہے۔یہ تو اسلام کی تعلیم کی خوبی کی علامت ہے۔جیسے کشمیر کے حالات پڑھ کر پاسن کر انسان کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ میں بھی ہے اسے دیکھوں۔یورپ کے حالات معلوم کر کے وہ چاہتا ہے کہ ایسے اچھے نظائر کا مشاہدہ کروں۔تو اس کا یہ نتیجہ نہیں ہوتا کہ اگلے دن لوگ اس کے پاس ان مقامات کے حالات یہ سمجھ کر سنے ہے کے لیے آجائیں کہ اُس کے دل میں چونکہ ان کو دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی تھی اس لیے یہ ان کو دیکھ چکا ہو گا۔بلکہ خواہش کا پیدا ہوناتو محض ان مقامات کے حالات میں بیان کردہ نظاروں کی خوبی کی دلیل ہے۔اسی طرح اسلام کی تعلیم کی خوبی کا اقرار محض اس تعلیم کی برتری کی دلیل ہے ہے۔اس م ہے۔اس سے نہ تو خود وہ انسان اپنے آپ کو مسلمان کھنے لگتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالی اسے مسلمان سمجھ کر اس سے معاملہ کرے گا۔اگر کسی شخص کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو کہ میں ملک کے لیے لڑوں تو گورنمنٹ اس کی تنخواہ مقرر نہیں کر دیتی۔یہی حال دین اور ایمان کا ہے۔