خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 149

$1944 149 خطبات محمود یا یورپ کے ممالک کے حالات پڑھتے یا دوسروں سے سنتے ہیں تو چاہے کسی شخص کی آمد دس روپیہ ماہوار ہی کیوں نہ ہو اُس کا دل ضرور چاہتا ہے کہ میں بھی ان نظاروں کو دیکھوں مگر وہ ہے خواہش عارضی ہوتی ہے۔آتی اور گزر جاتی ہے۔اس خواہش کے پیدا ہونے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ یہ حقیقی خواہش ہے۔بعض اوقات انسان کے دل میں خواہش تو بڑے زور کی ہوتی ہے مگر اُسے پورا کرنے کی مقدرت وہ نہیں رکھتا۔اور بعض دفعہ مقدرت اور سامان تو میسر ہوتے ہیں مگر پھر بھی انسان اُسے پورا نہیں کرتا۔ہزاروں لکھ پتی اور سینکڑوں کروڑ پتی ہندوستان میں ہیں مگر کیا وہ سارے یورپ کی سیر کر آئے ہیں؟ ان کے دل میں خواہش بھی ہے پیدا ہوتی ہے مگر باوجو دسامان ہونے کے وہ جاتے نہیں۔اسی طرح علوم کو لے لو۔لوگوں کے اندر یہ خواہش تو پیدا ہوتی ہے کہ وہ علوم کو سیکھیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ فلسفہ ایک دلچسپ چیز ہے منطق، علم النفس، علم ریاضی اور دیگر علوم بہت مفید ہیں ڈاکٹر بنا بڑی اچھی بات ہے، وکیل بڑا ہے اچھا ہوتا ہے، ہر اچھے پیشے کو دیکھ کر انسان کے اندر اسے سیکھنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔جب ایک آدمی کسی ڈاکٹر سے خوش ہوتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ وہ خود یا اُس کا لڑکا ڈاکٹر ہو۔جب وکیل کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے تو اس کے اندر یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ خود وکیل بنے یا اپنے لڑکے کو وکالت کی تعلیم دلوائے۔غرضیکہ ہر علم اور ہر پیشہ کو دیکھ کر یہ خواہش پید اہوتی ہے کہ اُسے حاصل کروں۔مگر کیا اس خواہش کے پیدا ہونے سے ہر شخص ڈاکٹر یا وکیل یا انجینئر بن جاتا ہے یا اپنے بیٹوں کو بنا لیتا ہے ؟ نہیں۔بلکہ بسا اوقات اُسی دن بلکہ ایک گھنٹہ کے بعد اسے یہ امر یاد بھی نہیں رہتا۔تو محض خواہش کا دل میں پیدا ہونا کسی کو اس پیشہ یا فن کی ہے خوبیوں سے متمتع نہیں کر سکتا۔یہ نہیں ہو تا کہ آج کسی کے دل میں ڈاکٹر بننے کی خواہش پیدا ہو تو اگلے روز مریض اس کے پاس علاج کے لیے چلے آئیں۔یا وکیل بننے کی خواہش ہو تو لوگ ہے اُس کے پاس مقدمات لے آئیں۔یا اگر دل میں یہ خواہش پیدا ہو کہ میں تاجر بنوں گا تو اگلے روز تھوک فروش دکاندار اسے ہول سیل نرخ پر مال دے دیں محض اس لیے کہ اس کے دل میں میں تاجر بننے کی خواہش پیدا ہوئی تھی۔یہ خواہش پیدا ہونے کے باوجود وہ جب بازار سے اپنی ضروریات خرید نے جائے گا تو ایک عام فرد کی طرح ہی سودا لے گا۔یہ نہیں کہ دکاندار اسے