خطبات محمود (جلد 25) — Page 138
خطبات محج محمود 138 $1944 محبت اپنے قلب میں ایسے رنگ میں محسوس کی ہے کہ میں سمجھتا ہوں شاید کیا یقیناً۔دنیا کے جو پاگل عاشق ہوتے ہیں وہ بھی اپنے معشوق کا اپنے جسم میں ایسا اثر محسوس نہیں کرتے جیسے اللہ تعالیٰ کے ذکر پر میرے جسم کا ذرہ ذرہ اس کا اثر محسوس کرتا ہے۔مجھے یاد ہے میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ جیسے پہاڑوں میں تلز (TUNNELS) ہوتی ہیں۔اسی طرح ایک پہاڑی راستہ ہے جس پر اللہ تعالی کی عاشق ہے روحیں جا رہی ہیں۔میں بھی اُن میں شامل ہوں۔بہت سے لوگ میرے آگے ہیں اور بہت سے میرے پیچھے ہیں۔مگر وہ سب کے سب ایسے ہی ہیں جیسے دیوانہ وار مجذوب ہوتے ہیں۔نہ انہیں سر کی فکر ہے نہ پیر کی منہ لباس کی فکر ہے نہ کسی اور چیز کی۔ہم سب بڑھتے چلے جارہے ہیں کہ مجھے مے محسوس ہوا ہمارے آگے اللہ تعالیٰ کے فرشتے کچھ شعر پڑھ رہے ہیں۔ان کی آواز میں گونج ہے ہے اور وہ بڑی محبت اور جوش کے ساتھ ان شعروں کو پڑھتے جارہے ہیں۔ہم اُن کی طرف بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ ہم اس مقام کے قریب پہنچ گئے جہاں سے فرشتوں کے گانے کی آواز آتی رہی تھی اور جو گویا ٹنل (TUNNEL) کا آخری سرا تھا جب ہم وہاں پہنچے تو مجھے وہاں اللہ تعالیٰ کا نور نظر آیا۔نہایت تیز روشنی جیسا نور جو تمام اُفق پر چھایا ہوا تھا۔اور میں نے دیکھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے عرش کے ارد گرد کھڑے اُس سے محبت اور عشق کا اظہار کر رہے ہیں۔میں بھی جس طرح دیوانہ انسان اپنا سر مارتا ہے سر مارتے ہوئے وہاں کھڑا ہو گیا اور میں نے یہ شعر پڑھناشروع کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہی ہے کہ :۔ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جس سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا یہی شعر میں پڑھتا رہا۔پڑھتے پڑھتے جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا میں اپنی چار پائی پر لیٹا ہوا یہی شعر پڑھ رہا تھا کہ:۔ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جس سے کٹ جاتا جھگڑا غم اغیار کا