خطبات محمود (جلد 25) — Page 104
$1944 104 محمود تمہیں کوئی آواز نہیں آسکتی۔خواہ تم کس قدر چلاؤ، خواہ تم کس قدر آہ و زاری سے کام لو۔نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کا دروازہ چھوڑ دیا اور پیروں اور فقیروں کے پیچھے چل پڑے۔کیونکہ گو وہ چھوٹی چھوٹی کھٹڑ کیاں تھیں۔مگر یہ چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں انہیں کھلی نظر میں آئیں اور بڑا دروازہ انہوں نے مقفل پایا۔پس وہ خدا کے دروازہ کو چھوڑ کر پیروں اور فقیروں کے پیچھے چل پڑے۔کیونکہ انہوں نے کہا، یہ ہیں تو کھٹڑ کیاں مگر کھلی کھڑکیاں ہیں۔پس آؤ! ہم ان کھڑکیوں سے اندر کی طرف جھانکیں۔مگر جانتے ہو اس کا کیا اثر ہوا؟ یہی ہوا کہ خدا کی محبت اور خدا کا پیار مسلمانوں کے دلوں سے جاتا رہا، روحانیت کا ان میں فقدان ہو گیا، وہ اس کے قرب سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئے اور خدا تعالیٰ کا تازہ بتازہ کلام سننے سے ان کے کان ہمیشہ کے لیے نا آشنا ہو گئے۔اسی طرح اسلامی تمدن اور سیاست میں بھی خطرناک نقص پیدا ہو گیا۔کیونکہ کہہ دیا گیا کہ صحابہ کے زمانہ میں تمدن نے جو شکل اختیار کی تھی اس سے زیادہ اسلامی تمدن کو کوئی شکل میں نہیں دی جاسکتی۔حالانکہ تمدن کی شکل ہر زمانہ کے لحاظ سے بدلتی چلی جاتی ہے۔کسی زمانہ میں اس کی کوئی شکل موزوں ہوتی ہے اور کسی زمانہ میں اس کی کوئی شکل موزوں ہوتی ہے۔سچانی مذہب وہی ہوتا ہے جو اپنے اندر لچک رکھتا ہے اور اسی لیے وہ مذہب دنیا میں ایک لمبے عرہ کے لیے آتے ہیں۔ان کی تعلیم کے اندر ایک قسم کی لچک پائی جاتی ہے جو مختلف زمانوں اور مختلف حالات کے مطابق تغیر پذیر ہوتی چلی جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اسلامی تمدن نے جو شکل اختیار کی وہ اور تھی۔مگر اب اس تمدن نے جو شکل اختیار میں کرنی ہے وہ اور ہے۔بے شک اس تمدن کے اصول ایک ہی رہیں گے مگر اس کی شکل زمانہ کے حالات کے لحاظ سے بدلتی چلی جائے گی۔اعتراض تب ہو جب اصول میں تبدیلی ہو۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اصول ہمیشہ ایک ہی رہیں گے لیکن اس تمدن کی شکل اور طریق عمل میں ہمیں ضرور فرق کرنا پڑے گا اور موجودہ سوسائٹی کی طرز اور اس کے طریق کے مطابق ہمیں اس میں تبدیلی کرنی پڑے گی اور شکل میں یہ تبدیلی بالکل جائز ہو گی۔مگر چونکہ کہہ دیا گیا کہ اسلامی تمدن انتہا تک پہنچ چکا ہے اور یہ کہ اس کے قانون میں کوئی لچک نہیں، اگر لوگ پرانے زمانہ میں