خطبات محمود (جلد 25) — Page 100
$1944 100 خطبات محمود حالا نکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلسوں میں بیٹھتے اور آپ سے ہمیشہ باتیں کیا کرتے تھے۔کچھ لوگوں کو تو ہم اس لیے صحابی نہیں کہتے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و کے دعوای کے منکر تھے حالانکہ جہاں تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم کا تعلق ہے وہ لوگ آپ کے قرب میں بیٹھنے والے تھے۔اور کچھ لوگوں کو ہم اس لیے نہیں کہتے کہ گووہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دعوی کو منہ سے تسلیم کرتے تھے مے مگر عملاً آپ سے عقیدت نہ رکھتے اور آپ کے ارشادات کے مطابق عمل کرنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔پس باوجود اس کے کہ ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسمانی قرب حاصل ہوا، ہم اُن کو صحابی نہیں کہتے۔ہم یوں نہیں کہتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک صحابی تھا ابو جہل۔مگر وہ آپ کا مخالف ہو گیا اور اس نے بڑی شدید دشمنی کی۔ہم یہ کبھی نہیں کہتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک صحابی تھا عبد اللہ بن ابی ابن سلول۔وہ منہ سے تو کہتا تھا کہ میں اسلام کا شیدائی ہوں لیکن دل سے اسلام کا شدید ترین د دشمن تھا حالا نکہ جو صحابی کے معنے ہیں یعنی پاس بیٹھنے والا اور صحبت سے حصہ پانے والا ، وہ اس میں پائے جاتے تھے۔تو میں نے بتایا یہ تھا کہ در حقیقت صحابیت اس محبت اور اخلاص کے تعلق پر مبنی ہے جو انسان کسی رسول کے ساتھ رکھتا ہے اور اسی وجہ سے جن لوگوں نے اس قسم کا اخلاص اپنے اندر پیدا کر لیا وہ باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کے بہت بعد پیدا ہوئے، انہوں نے وہی مقام حاصل کر لیا جو صحابہ کو حاصل تھا۔چنانچہ میں نے اس کی مثال بھی دی تھی کہ حضرت محی الدین صاحب ابن عربی فرماتے ہیں کہ میں نے ساری بخاری سبقا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پڑھی ہے۔اسی طرح اور بہت سے لوگ محمدیہ میں ایسے گزرے ہیں جنہیں رویا یا کشف میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی، آپ سے باتیں کرنے کا ان کو موقع ملا اور جاگنے کی حالت میں بھی ان کے دلوں میں اخلاص اور تقوی پایا جاتا تھا۔ایسے لوگ یقینا صحابی تھے۔یہی حالت اگر آج بھی ہم میں پیدا ہو جائے، یہی مرتبہ اگر آج بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم کو میسر آجائے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم آج بھی صحابہ کا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ہم خدا تعالیٰ پر بخل کا