خطبات محمود (جلد 25) — Page 78
1944ء 78 خطبات محمود کہا کہ وہ احمدیوں کو اس موقع پر قادیان آنے سے روکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ انسپکٹر جنرل پولیس نے درد صاحب سے یہی کہا کہ سی ۔ آئی ڈی کے سپر نٹنڈنٹ صاحب ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کے ساتھ آئے۔ ان کے ہاتھ میں اُس وقت ایک خط تھا جس کی طرف اشارہ کر کے انہوں نے کہا کہ قادیان سے جواب آگیا ہے کہ ہم احمدیوں کو اس اجتماع کے موقع پر باہر سے آنے سے روکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ چونکہ ایک اہم عہدیدار یہ خط لایا تھا اور ڈی۔ آئی۔ جی اُس کے ساتھ تھا اس لیے اُن کے کہنے پر اعتبار کر لیا گیا اور چونکہ گورنر صاحب بار بار فون کر رہے تھے کہ قادیان سے کیا جواب آیا ہے اس لیے انہیں فوری طور پر جواب دے دیا گیا کہ قادیان سے جواب آگیا ہے۔ وہ احمدیوں کو روکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس پر گورنر صاحب نے فوراً اپنی کو نسل کا اجلاس بلایا اور کہا کہ قادیان سے یہ جواب آیا ہے کہ وہ احمدیوں کو روکنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور کونسل نے بغیر اس کے کہ وہ دیکھتی کہ کہ خط میں لکھا کیا ہے، جھٹ فیصلہ کیا کہ پنجاب کریمنل لاء امنڈ منٹ ایکٹ یہ د 1932ء کے )PUNJAB CRIMINAL LAW AMENDMENT ACT( ما تحت امام جماعت احمد یہ کو نوٹس دے دیا جائے کہ وہ ایسا نہ کریں ورنہ وہ قانون کی زد میں آجائیں گے ۔ حالانکہ ابتدا میں جو لوگوں کو بلایا بھی گیا تھا اور جسے بعد میں منسوخ بھی کر دیا گیا وہ میری طرف سے نہ تھا بلکہ امور عامہ کی طرف سے تھا۔ پس اگر واقع میں اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ سی۔ آئی۔ ڈی نے افسرانِ بالا کو کوئی دھوکا دیا تو وہ میرے اختیار میں نہیں تھا اور کی اگر انہوں نے دھوکا دیا تو کیا ڈی۔ آئی جی اُن کے ساتھ نہ تھے ؟ اور کیا ان کا فرض نہ تھا کہ وہ تھا کہ وہ اس خط کو پڑھ لیتے اور دیکھ لیتے کہ اس میں کیا لکھا ہے؟ پھر کیا انسپکٹر جنرل پولیس اس خط کو پڑھ نہیں سکتا تھا کہ اُسے بھی دھوکا لگ گیا؟ پھر اگر انسپکٹر جنرل پولیس نے غلطی کر دی تو کیا گور نر صاحب اُس خط کو نہیں پڑھ سکتے تھے؟ کیا ان کی کو نسل اس خط کو نہیں پڑھ سکتی تھی؟ اور کیا چیف سیکر ٹری اس خط کو نہ پڑھ سکتے تھے ؟ پس اگر یہ غلطیاں ہیں جو یکے بعد دیگرے تمام افسروں سے سرزد ہوتی چلی گئیں تو کیا یہ سب کچھ میرے اختیار میں تھا یا میری طاقت میں تھا کہ میں ایسا کر سکتا ؟ واقعات پر غور کر کے دیکھ لو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ خدا کا ایک فعل تھا ی