خطبات محمود (جلد 25) — Page 79
$1944 79 خطبات محمود اور خدا ہماری جماعت میں بیداری پیدا کرنا چاہتا تھا۔خدا میرے ہاتھ سے اسلام کے اس نازک دور میں تبلیغ دین کی ایک عظیم الشان بنیاد رکھنا چاہتا تھا۔خدا ہماری جماعت کو ایک کوڑا مار کر جگانا چاہتا تھا اس لیے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نے غفلت کی کہ اس نے خط کو نہ پڑھا۔انسپکٹر جنرل پولیس نے غفلت کی اور اس نے خط کو نہ پڑھا۔پھر یہی غلطی گورنر صاحب سے ہوئی۔پھر یہی غلطی ان کی کونسل کے ارکان سے ہوئی اور ساروں نے ہی یہ سمجھ لیا کہ ہماری طرف سے یہ جواب دیا گیا ہے کہ ہم احمدیوں کو روکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔حالانکہ اس جواب کی کوئی بنیاد ہی نہ تھی اور کوئی ایسا خط گورنمنٹ کو لکھا ہی نہیں گیا تھا۔مگر اُن ساروں نے یہ غلطی کی اور اس خط کی بناء پر مجھے نوٹس دے دیا گیا جس کی کوئی بنیاد نہ تھی۔چنانچہ جب بعد میں ہم نے بالا افسروں سے کہا کہ ہم نے تو احمدیوں کو روک دیا تھا اور امور عامہ نے بھی میری ہدایت کے مطابق اپنے اس حکم کو منسوخ کر دیا تھا، آپ ہمیں وہ خط دکھائیں جس میں ہم نے یہ لکھا ہو کہ ہم احمدیوں کو روکنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو وہ اتنے شر مندہ ہوئے کہ اُن سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔آخر چیف سیکرٹری نے چھ ماہ کے بعد ہمارے ایک وفد سے کہا کہ اب ہماری کافی ذلت ہو گئی ہے ہم مانتے ہیں کہ ہم سے غلطی ہوئی۔آپ ہم سے بار بار اس خط کا یہ مطالبہ کر کے ہمیں شرمندہ نہ کریں۔تو دیکھو خط میں بالکل الٹ مضمون تھا۔اُس خط میں لکھا یہ گیا تھا کہ احمدیوں سے کہہ دیا گیا ہے وہ احرار کے جلسہ کے موقع پر قادیان میں نہ آئیں۔مگر میں گور نمنٹ نے یہ نوٹس دے دیا کہ چونکہ تم احمدیوں کو قادیان آنے سے روکنے کے لیے تیار نہیں ہو اس لیے تمہیں آگاہ کیا جاتا ہے کہ اگر اس موقع پر احمدی آئے تو تم قانون کی زد میں میں آ جاؤ گے۔حالانکہ وہ خط جس کی بناء پر انہوں نے یہ نوٹس دیا اُن کے ہاتھ میں تھا، اُن کی فائل میں موجود تھا مگر پھر اُن سے یہ غلطی ہو گئی۔پس اگر یہ غلطی ہے تو پھر یہ غلطی اسی خدا کی کروائی ہوئی ہے جس خدا نے غارِ ثور کے منہ پر پہنچ جانے والے کفار کی زبان سے یہ الفاظ نکلوا دئے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس غار میں نہیں ہو سکتے۔اس کے بعد حکومت کی طرف سے ہماری تبلیغ کے راستے میں روکیں پیدا ہونی شروع ہوئیں اور ہمیں یہاں تک خوف پیدا ہوا کہ سلسلہ کے مقدس لٹریچر پر بھی گورنمنٹ ہے