خطبات محمود (جلد 25) — Page 752
$1944 752 خطبات محمود اُن کے کان میں پڑے ایک عاشق صادق کی طرح وہ گلی میں ہی بیٹھ گئے اور اس طرح چلنے لگے کہ جس طرح سنجیدہ لوگ عام طور پر نہیں چلتے۔اور یہی مناسب سمجھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منشاء مبارک مجھے بھی پورا کرنا چاہیے۔گو آپ کی مراد مجھ سے نہیں۔قرآن کریم میں حکم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی مشورہ لو تو پہلے صدقہ دے لیا کر و۔7 کہتے ہیں حضرت علی نے اس حکم سے پہلے کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مشورہ نہ لیا تھا۔مگر جب یہ حکم نازل ہوا تو حضرت علیؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کچھ رقم بطور صدقہ پیش کر کے عرض کیا کہ میں کچھ مشورہ لینا چاہتا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے الگ جا کر حضرت علیؓ سے باتیں کیں۔کسی دوسرے صحابی نے حضرت علی سے دریافت کیا کہ کیا بات تھی جس کے متعلق آپ نے مشورہ لیا؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ کوئی خاص بات تو مشورہ طلب نہ تھی مگر میں نے چاہا کہ قرآن کریم کے اس حکم پر بھی عمل ہو جائے۔شیعہ اس واقعہ سے دوسرے صحابہ کی تنقیص کا پہلو نکالتے ہیں۔مگر اُن کی یہ بات بالکل لغو ہے۔یہ واقعہ حضرت علی کی محبت کا ثبوت ضرور ہے مگر اس میں دوسرے صحابہ کی تنقیص کا کوئی پہلو نہیں۔شیعہ لوگ اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں ہیں کہ قرآن کریم میں وَاشْفَقْتُمْ کا جو لفظ آیا ہے یعنی کیا تم اس بات سے ڈر گئے ہو کہ مشورہ لینے سے پہلے صدقہ دے لیا کرو۔8 اس سے مراد یہ ہے کہ صحابہ صدقہ کے حکم سے ڈر گئے ہو تھے۔عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ حکم پہلے دن نازل ہوا کہ مشورہ لینے سے پہلے صدقہ دے لیا کرو اور دوسرے دن اسے منسوخ کرنے والا حکم نازل ہو گیا۔کیونکہ صحابہ اِس بات سے ڈر گئے تھے کہ اب انہیں صدقہ دینا پڑے گا مگر حضرت علی نے اس حکم پر عمل کیا۔حالانکہ وہ اتنا نہیں سوچتے کہ حضرت علی نے زیادہ سے زیادہ ایک دینار صدقہ دے دیا ہو گا۔مگر صحابہ میں ایسے لوگ تھے جنہوں نے بہت بڑی بڑی قربانیاں کیں۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چندہ کی تحریک فرمائی۔حضرت عمرؓ نے چاہا کہ اس تحریک میں میں ابو بکر سے بڑھ جاؤں۔چنانچہ وہ اپنا نصف مال لے آئے۔وہ آئے تو حضرت ابو بکر پہلے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ چکے تھے اور