خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 740 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 740

$1944 740 محمود رض مگر منہ کے کہنے سے کچھ نہیں بنتا۔وہ قربانیاں پیش کرو جو صحابہ نے پیش کیں۔اُسی طرح اپنی جانیں خدا کی راہ میں پیش کرو جس طرح صحابہ نے پیش کیں۔اسی طرح اپنے اموال دین کے رستہ میں خرچ کرو جس طرح صحابہ نے خرچ کیے۔اُسی طرح اپنے وطنوں کو قربان کرو جس طرح صحابہ نے اپنے وطنوں کو قربان کیا۔اور دین کی خدمت کے لیے ہر وقت کمر بستہ رہو جس طرح صحابہ ہر وقت کمر بستہ رہتے تھے۔اور ہر طریق سے اپنی قربانیوں کو خدا کے حضور پیش کرو۔اور جس طرح تم زبان سے کہتے ہو کہ ہمیں صحابہ" کا مثیل بننے کا موقع ملا۔خدا کرے وہ دن آئے کہ جب تم خدا کے حضور پیش ہو تو تمہارا خدا اور اُس کا رسول یہ کہے کہ یہ ہیں میرے صحابہ جو بعد میں آئے مگر ان کی قربانیوں نے ان کو صحابہ میں شامل کر دیا۔اور ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنی جانیں اور اپنے اموال اور اپنی عزتیں اور اپنے وطن اور اپنی ہر ا چیز کو خدا کی راہ میں قربان کر دیا۔پس صحابیت وہی ہے جو خدا تعالیٰ کے منہ سے نکلے، صحابیت وہی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ سے نکلے، صحابیت وہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے نکلے۔ہمارے منہ کی باتوں کا کیا اثر ہو سکتا ہے۔قائم اور دائم اور ثابت رہنے والی عزت اور نیک نامی وہی ہے جو خدا اور اُس کے رسول کی طرف سے ملے۔سکھ وہی ہے جو خدا کی طرف سے ملے۔عزت وہی ہے جو خدا اور اس کے رسول کی طرف سے ملے۔نام وہی ہے جو خدا اور اُس کے رسول کی طرف سے ملے۔کاش! خدا اور اُس کے رسول کے نزدیک آپ اس مبارک نام کے مستحق ہوں۔خدا کرے کہ آپ اپنی جانوں، اپنے اموال اور اپنے وجود اور اپنی ہر ایک چیز کو خدا کی راہ میں قربان کرنے والے ہوں تاکہ ہمارے خدا کے منہ سے نکلے کہ یہ ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ۔اور خدا اور اُس کے رسول کے منہ سے نکلے کہ یہ ہیں وہ لوگ جو اپنی ہر ایک چیز کو دین کی خاطر قربان امینی کر کے اسلام کو زندہ کرنے والے ہیں"۔(الفضل 16 دسمبر 1944ء)