خطبات محمود (جلد 25) — Page 736
1944ء 736 خطبات محمود بتایا ہے اُس پر اتنی رقم خرچ آئے گی کہ حکومت اس رقم کو برداشت نہیں کر سکتی۔ مگر اب میں نے امتحان لے لیا ہے کہ آپ واقعی سچی نیت کے ساتھ یہ عمارت بنانا چاہتے ہیں اور مجھے یقین ہو گیا ہے کہ اس عمارت کے بنانے میں آپ بے دریغ روپیہ خرچ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اب یہ عمارت تیار ہو سکتی ہے۔ چنانچہ پھر وہ عمارت بنائی گئی جو آج ساری دنیا میں نمونہ کی عمارت ہے۔ کچھ عرصہ ہوا حکومت کی طرف سے سارے سامانوں کے ساتھ اُس کی مرمت شروع کی گئی۔ ابھی تھوڑی سی مرمت ہوئی تھی کہ لوگوں نے شور مچا دیا کہ تم اُس کی مرمت نہیں کر رہے بلکہ اس کو بگاڑ رہے ہو۔ مرمت کو جانے دیجیے اور اس عمارت کو اس کی حالت پر رہنے دیجیے۔ چنانچہ اب تک اس عمارت کی بعض باتوں کا حل نہیں ہو سکا۔ پس جب تک ہم اس ارادہ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے جو ارادہ شاہجہان تاج محل بنانے کے متعلق رکھتا تھا بلکہ اُس سے بہت زیادہ ارادہ کے ساتھ اُس وقت تک ہم اسلام کی عمارت کو کھڑا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ تاج محل سے اسلام کی حیثیت بہت زیادہ ہے۔ بلکہ تاج محل کی عمارت کو اسلام کی اس عمارت سے کوئی واسطہ اور کوئی نسبت ہی نہیں جس عمارت کو قائم کرنے کے لیے ہم کھڑے ہوئے ہیں۔ اتنے بڑے کام کے مقابلہ میں ہم ہیں ہی کیا۔ پنجاب میں ہماری مردم شماری لاکھ سوالاکھ ہے۔ آج سے دس سال پہلے ستر ہزار تھی تو اب لاکھ سوالاکھ ہو گی۔ لیکن یوں ہماری تعداد اس سے زیادہ ہے کیونکہ مردم شماری میں کام کرنے والے لوگ متعصب تھے اس لیے انہوں نے ہماری تعداد کم درج کی۔ میرا اپنا اندازہ ہے کہ پنجاب میں ہماری تعداد اڑھائی لاکھ ہے اور سارے ہندوستان میں ساڑھے تین لاکھ ہے اور ہندوستان سے باہر ڈیڑھ لاکھ ہے۔ اس طرح ساری دنیا میں ہماری تعداد کوئی پانچ چھ لاکھ کے قریب ہے جو ہمیں معلوم ہے۔ یوں تو میں سمجھتا ہوں کہ بہت سارے ایسے احمدی بھی ہیں جن کا ہمیں پتہ نہیں یا ایسے ہیں جو اپنے آپ کو چھپاتے ہیں اُن کو ملا کر کوئی دس بارہ لاکھ کے قریب ہماری تعداد بنتی ہے۔ مگر جو اپنے آپ کو چھپاتے ہیں اُن سے ہم فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔ ہم صرف اُنہی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کا ہمیں علم ہے اور جو منظم ہیں۔ ایسی جماعت جو منتظم ہے وہ پانچ چھ لاکھ سے زیادہ نہیں۔ یہ بات ہے ظاہر ہے کہ قربانی کا بوجھ ہندوستان کی جماعت پر ہے۔ ہندوستان سے باہر جو جماعتیں ہیں