خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 734 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 734

1944ء 734 خطبات محمود شامل ہوئے ہیں اُن کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس غفلت میں اپنے ثواب کو کم نہ کریں کہ اب ہمیں پیچھے کی طرف جانے کی اجازت مل گئی ہے اور وہ گیارھویں سال کا چندہ نویں سال کے مطابق لکھوا کر اپنی قربانی کو حقیر نہ بنائیں۔ وہ بے شک کمی کریں مگر اپنی موجودہ حیثیت کے مطابق نویں سال اُنہوں نے مثلاً چالیس یا پچاس روپے چندہ دیا تھا اور دسویں سال اُن کا چندہ پانچ سو روپیہ تھا تو اب گیارھویں سال کے لیے اگر وہ کمی کریں تو دسویں سال کی حیثیت سے کریں نہ کہ نویں سال کے مطابق ۔ کیونکہ نویں سال کا چندہ اُن کی حیثیت سے بہت کم تھا اور اُس وقت کمی کی رعایت اُن کو اس لیے دی گئی تھی کہ انہوں نے گزشتہ تمام سالوں کا چندہ اکٹھا ادا کرنا تھا۔ اب جب وہ اُس بار کو اُتار چکے ہیں تو اُن کو گیارھویں سال کا چندہ لکھواتے وقت اپنی موجودہ حیثیت کو مد نظر رکھنا چاہیے نہ کہ نویں یا آٹھویں یا ساتویں سال کے معیار کو جو اُن کی حیثیت سے بہت گرا ہوا ہے۔ ہماری جماعت کو یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ ہم جس کام کے لیے کھڑے کیے گئے ہیں وہ کام بے دریغ قربانی چاہتا ہے۔ جب تک ہم بے دریغ قربانی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اسلام اپنے حق کو واپس نہیں لے سکتا جو غیروں کے پاس جا چکا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ورثہ عیسائیت کے قبضہ میں جا چکا ہے۔ اس کو واپس لانا آسان نہیں۔ اگر ساری دنیا کے مسلمان ہمارے ساتھ متفق ہوتے تو نسبتاً یہ کام آسان ہوتا۔ مگر مسلمانوں کا ہمارے ساتھ متفق ہونا تو الگ رہا وہ تو اجتماع کر کے اور انفرادی طور پر پورا زور لگا رہے ہیں کہ اس جماعت کو تباہ کر دیں جو اسلام کو اُس کا حق دلانے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ورثہ کو غیروں سے واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ ہماری مدد کرتے وہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ورثہ کو واپس لانے والی قلیل جماعت جو اُنگلیوں پر گنی جاسکتی ہے اُس کو نقصان پہنچائیں تا کہ وہ بھی آسانی سے یہ کام نہ کر سکے ۔ پس ہم تھوڑے سے لوگ جو اتنے بڑے کام کے لیے کھڑے ہوئے ہیں جب تک اپنی تمام طاقتوں کو مجنونوں کی طرح نہ لگا دیں اور دیوانوں کی طرح ہر ایک قربانی کے لیے تیار نہ ہوں اُس وقت تک یہ کام ہمارے ہاتھوں سے ہونا مشکل ہے۔