خطبات محمود (جلد 25) — Page 719
خطبات محمود 719 $1944 پس اگر اس طرح ہم علماء تیار کر سکیں تو تبلیغ کے کام میں بھی بہت ترقی ہو سکتی ہے اور لوگوں میں دینی ذوق پیدا ہونے کا سامان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔اگر مختلف صوبوں میں قائم شدہ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے چھ چھ طلباء کو بھی وظائف دیے جائیں تو کم سے کم 36 طلباء کا من مزید بوجھ سلسلہ پر پڑے گا۔اس سلسہ میں تیسری چیز دیہاتی سکیم کی ہے۔کچھ عرصہ ہوا میری توجہ اس طرفہ منعطف ہوئی کہ ہمارے موجودہ مبلغ چونکہ اعلیٰ تعلیم پاتے ہیں اور شہری تمدن رکھتے ہیں۔اِس لیے وہ دیہات میں اور زمینداروں میں تبلیغ کا کام كَمَاحَقہ نہیں کر سکتے۔دیہاتیوں میں تبلیغ وہی کر سکتا ہے جو اُن میں رہے، اُن جیسا ہی تمدن رکھتا ہو۔چنانچہ دیہات میں جہاں جہاں بھی جماعتیں قائم ہوئی ہیں وہ عام طور پر پٹواریوں، دیہاتی مدرسوں اور نمبر داروں وغیرہ کے ذریعہ سے ہوئی ہیں۔اور اب بھی جہاں کوئی پٹواری یا مدرس احمدی ہو تھوڑی بہت جماعت بڑھتی رہتی ہے اور خدا تعالیٰ نے سامان بھی ایسے کر دیے کہ بہت سے پٹواری، دیہاتی مدرس اور نمبر دار وغیرہ جماعت میں داخل ہو گئے۔یہ لوگ چونکہ دیہاتیوں میں ہی رہتے اور اُن سے ملتے جلتے رہتے ہیں اس لیے زیادہ کامیابی کے ساتھ اُن کو تبلیغ کر سکتے ہیں۔اس لیے میں نے خیال کیا کہ دیہات کی تبلیغی ضرورت کو پورا کرنے والے علماء تیار کیے جائیں۔چنانچہ میں نے دیہاتی مبلغین کی سکیم تیار کی۔دیہات میں تبلیغ کرنے والوں کو زیادہ منطق اور فلسفہ وغیرہ علوم کی ضرورت نہیں۔بلکہ قرآن کریم کا ترجمہ، تفسیر ، کچھ حدیث کا علم اور کچھ فقہی مسائل کا علم ہو نا کافی ہے اور کچھ طب کا جاننا ضروری ہے تا وہ تکلیف کے وقت دیہاتیوں کی مدد کر سکیں اور خود بھی کچھ کما سکیں۔دیہاتی مبلغین کی ہمیں کس قدر ضرورت ہے ؟ اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ ہندوستان میں اندازاً تین سو اضلاع ہیں۔ہر ضلع میں اوسطاً چار تحصیلیں ہیں تحصیل میں کم و بیش پانچ سو دیہات ہیں۔گویا ایک ضلع میں دو ہزار کے قریب دیہات ہیں اور اس طرح ہندوستان بھر میں دیہات کی تعداد قریباً چھ لاکھ ہے اور ریاستی علاقہ بر طانی ہند کے 1/3 کے قریب ہے۔اس لیے قریبا دو لاکھ گاؤں ریاستوں کے ہیں اور انہیں شامل کر کے ہندوستان کے گل دیہات کی تعداد کم و بیش آٹھ لاکھ ہو جاتی ہے۔اس لحاظ سے اور ہر