خطبات محمود (جلد 25) — Page 718
$1944 718 محمود علیمی مراکز قائم نہ کیے جائیں فائدہ نہیں ہو سکتا۔اس لئے میرے نزدیک ایک مدرسہ دینیہ بنگال اور بہار کے لیے ہونا چاہیے، ایک سندھ کے لیے، ایک صوبہ بمبئی کے لیے، ایک مدراس کے لیے اور ایک صوبہ سرحد کے لیے اور ایک یوپی کے لیے۔ان مراکز کے قائم کرنے کا ایک لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ ان علاقوں کے طلباء ان میں تعلیم حاصل کریں گے۔بنگال کا ایک لڑکا اگر قادیان میں تعلیم حاصل کرنے آتا ہے تو اس سے باقی بنگالیوں میں اپنے بچوں کو تعلیم حاصل ہے کرنے کے لیے قادیان بھیجنے کا زیادہ شوق پیدا نہیں ہو سکتا۔لیکن اگر ان کے لیے بنگال میں ہی ایک تعلیمی مرکز کھول دیا جائے تو ضرور دینی تعلیم حاصل کرنے کا شوق ان میں پیدا ہو گا اور یہی ہے حال دوسرے صوبوں کا ہے۔اگر ہم صوبہ مدراس کے لیے دو چوٹی کے عالم مقرر کر دیں، دومین بنگال کے لیے ، دو بمبئی کے لیے، دوسندھ کے لیے، دو صوبہ سرحد کے لیے اور دو یوپی اور بہار کے لیے تو اس سے ان علاقوں میں دینی تعلیم کے حصول کا شوق بہت جلد پیدا ہو جائے گا اور ہر علاقہ میں ایسے علماء پیدا ہو جائیں گے جو علم حاصل کرنے کے بعد اپنے اپنے علاقوں کو سنبھال ا سکیں گے۔اس طرح بارہ مدرس ان مراکز کے لیے درکار ہوں گے۔ان کے علاوہ دو عالم زائد رکھنے ہوں گے تاان میں سے اگر کسی کو رخصت وغیرہ پر آنا پڑے یا کوئی بیمار ہو جائے تو کام بند نہ ہو۔اس طرح یہ نہیں علماء رکھنے ضروری ہیں۔اس انتظام کے بغیر ہم علم دین کو عام نہیں کر سکتے۔اور جب تک علماء عام نہ ہوں تربیت کا کام ناقص رہے گا۔اب بھی یہ شکایت عام ہو رہی ہے کہ جماعتیں تو قائم ہو رہی ہیں مگر انہیں سنبھالنے والے آدمی بہت تھوڑے ہیں اور اس طرح جماعت کی ترقی میں بھی روک پیدا ہو رہی ہے اور تربیت میں بھی نقص رہتا ہے۔لیکن اگر اس طرح مختلف صوبوں میں ہم مدارس قائم کر دیں تو بیسیوں علماء پیدا ہو سکیں گے اور جماعت بھی ان کے ذریعہ بہت ترقی کرے گی۔ایک ایک عالم کے ذریعہ بعض اوقات سینکڑوں ہزاروں لوگ احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔بنگال میں ایک عالم مولوی عبد الواحد صاحب گزرے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ان کی خط و کتابت بھی براین احمدیہ حصہ پنجم میں شائع شدہ ہے۔ان کے ذریعہ بنگال میں ہزاروں لوگوں نے بیعت می کی۔تو جہاں جہاں بھی کوئی بڑا عالم ہوا ہے سینکڑوں ہزاروں نے اس کے ذریعہ بیعت کی ہے۔