خطبات محمود (جلد 25) — Page 717
1944ء 717 خطبات محمود کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ گھر سے نکلوں تو نزلہ کی تکلیف ہو جاتی ہے۔ ایک صاحب ایسے ہیں جو اس وقت موتیا بند کی مرض میں مبتلا ہیں۔ ایک ان میں سے انٹرنس (ENTRANCE) فیل یا شاید انٹرنس (ENTRANCE) پاس ہیں اور اس طرح بہت سے ایسے نام میرے پیش کر دیے گئے ہیں کہ جن کو نہ دینی تعلیم ہے اور نہ دنیاوی۔ یہ نتیجہ آدمی تیار نہ کرنے کا ہوتا ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ صدر انجمن احمد یہ کو یہ نام پیش کرنے کی جرات کیسے ہوئی۔ انجمن میں پانچ سات تعلیم یافتہ اور ذمہ دار آدمی ہیں۔ جب وہ یہ رپورٹ میرے پاس بھجوانے کے لیے لکھ رہے تھے اُن کے ہاتھ کیوں نہ کانپ گئے۔ یہ تمسخر ہے جو خدا، رسول اور اُس کے خلیفہ سے کیا گیا۔ امریکہ میں جو علمی لحاظ سے چوٹی کا ملک ہے کسی انٹرنس فیل یا انٹرنس پاس کو بطور مبلغ بھیج دینا جو دینی علوم سے بھی کو را ہے یا ایک ایسے شخص کو بھیج دینا جو 24 سال سے قادیان اس واسطے نہ آئے ہوں کہ گھر سے نکلیں تو بیمار ہو جاتے ہیں جگ ہنسائی کی بات ہے۔ در حقیقت یہ نتیجہ ہے آدمی تیار نہ کرنے کا۔ مگر ہم ایسی غلطی انشاء اللہ نہ کریں گے۔ ہم اگر 106 مبلغ بیرونی ممالک میں بھیجیں گے تو اتنے ہی یہاں رکھیں گے تا پہلے مبلغ تین چار سال کے بعد واپس آسکیں اور دوسرے ان کی جگہ لے سکیں۔ اِس انتظام کے بغیر کوئی تبلیغی مرکز کھولنا ہنسی اور مذاق ہو گا۔ ان تبلیغی مراکز کے علاوہ یہاں ایک تعلیمی ادارہ کا ہونا بھی ضروری ہے جس میں علماء تیار ہوتے رہیں کیونکہ کسی جماعت کی زندگی کا انحصار اس کے علماء پر ہوتا ہے۔ اِس لیے علاوہ مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کے اساتذہ کے چھ ایسے علماء کا مرکز میں موجود رہنا ضروری ہے جو چوٹی کے علماء تیار کر سکیں اور جو ہر وقت مرکز میں موجود ہوں۔ پھر اسی طرح ہندوستان میں دوسرے مقامات پر بھی مرکز کھولنے چاہیں۔ اس کے بغیر تعلیمی تنظیم مکمل نہیں ہو سکتی۔ بنگال، بہار اور یوپی وغیرہ کے طالب علم قادیان میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بکثرت نہیں آسکتے۔ کیونکہ ایک تو یہاں آکر تعلیم حاصل کرنے میں خرچ زیادہ ہوتا ہے دوسرے بعض اپنے اپنے علاقہ کے رسم و رواج کی مشکلات ہوتی ہیں اور پھر بعض والدین بھی بچوں کو اپنے سے جدا کر کے کسی اور جگہ پر بھیجنے سے کتراتے ہیں اور اِس لیے جب تک مختلف مقامات پر