خطبات محمود (جلد 25) — Page 709
1944ء 709 خطبات محمود آئے ہیں۔ 1931ء میں جب میں سیالکوٹ گیا تو میری تقریر کے وقت انہی مولوی عطاء اللہ صاحب کی انگیخت پر قریباً بیس ہزار کا مجمع پورا ایک گھنٹہ اور پانچ منٹ ہم پر پتھراؤ کر تا رہا اور پھر ان پتھراؤ کرنے والوں کی بہادری یہ تھی کہ جب مسٹر یوسٹس نے جو اُس وقت وہاں ڈپٹی کمشنر تھے حکم دیا کہ اگر پانچ منٹ تک یہ مجمع منتشر نہ ہوا تو وہ پولیس کو حملہ کرنے کا حکم دیں گے۔ تو پانچ منٹ کے اندر اندر ہی یہ لوگ اس طرح جلسہ گاہ سے غائب ہو گئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ پس ان لوگوں کا ہمارے جلسوں پر حملے کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ ان فتنوں کے اس وقت اٹھنے میں اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ جماعت کو متنبہ کرے کہ اپنے آپ کو امن میں نہ سمجھنا۔ فتنے ابھی موجود ہیں اور دشمن احمدیت کو مٹانے کے لیے کھڑا ہے۔ اگر ان حالات سے جماعت آنکھیں بند کرلے تو اس کی مثال وہی ہو گی کہ جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے اور وہ کسی بہتر نتیجہ کی امید نہیں کر سکتی۔ پس یہ سامان اللہ تعالیٰ نے خود اس لیے پیدا کیا ہے کہ تادلوں سے غفلت کو دور کرے اور ہماری سستیوں کے ازالہ کا سامان فرمائے اور جیسا کہ اس سال کے شروع میں اُس نے مجھے رویا میں دکھایا تھا کہ اسلام کے لیے جنگ کرنے میں مجھے دنیا میں دوڑنا ہو گا اور جب میں دوڑوں گا تو اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے میرے ہاتھ میں ہاتھ دے رکھا ہے دوڑنا لازمی ہو گا۔ بیعت کرتے وقت ہاتھ میں ہاتھ دینے کے ایک معنے یہ بھی ہوتے ہیں کہ جس طرح ماں باپ جب تیز چلنے لگتے ہیں تو بچہ کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں تا وہ ساتھ ساتھ چل سکے اِسی طرح بیعت کرنے والا بھی ہاتھ میں ہاتھ دے کر ساتھ چلنے کا اقرار کرتا ہے۔ پس میں جب دوڑوں گا تو جن لوگوں نے میرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کی ہے اُن کے لیے بھی لازمی ہو گا کہ یا تو میرے ساتھ دوڑیں اور یا پھر اپنا ہاتھ کھینچ لیں۔ اور جو شخص میرے ساتھ دوڑنے میں کو تاہی کرتا ہے وہ گویا اپنی بیعت کے ناقص ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ یا درکھو! کہ آج اسلام سے زیادہ کوئی مذہب حقیر اور کمزور نہیں۔ وہی طاقتیں جو کسی زمانہ میں اِس کی قوت کا موجب تھیں مثلاً ایران، افغانستان، بخارا، مصر وغیرہ وہ ایسی چھوٹی چھوٹی ہیں کہ ان کی کوئی حیثیت ہی نہیں سمجھی جاتی۔ اگر مصر، مراکو، الجیریا، سوڈان،