خطبات محمود (جلد 25) — Page 704
1944ء 704 خطبات محمود کہ احادیث، تفسیر اور فلسفہ وغیرہ علوم کے اعلیٰ درجہ کے ماہر علماء ہم میں موجود ہوں۔ قرآن کریم کی ادبی شان اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ادبی شان کو ظاہر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ صرف و نحو اور ادب میں اعلیٰ درجہ کا کمال رکھنے والے علماء ہم میں پائے جاتے ہوں اور اِس لیے اِن علوم کی تکمیل کرانا انتہائی طور پر ضروری ہے۔ اس کے بغیر بغیر علمی لحاظ سے احمدیت کو دنیا میں غالب کرنا ممکن نہیں۔ فرض کرو ہمارا ایک مبلغ مصر جاتا ہے ۔ وہاں جامعہ ازہر ہے جو نہ صرف مصر بلکہ تمام دنیا میں علمی لحاظ سے ایک چوٹی کی جگہ ہے۔ وہاں ہمارا ایک مبلغ جائے اور اُن علوم میں جو وہاں پڑھائے جاتے ہیں وہاں کے علماء کا مقابلہ نہ کر سکے۔ تو گو یہ تو صحیح ہے کہ ہمیں مذہبی شکست تو نہ ہو گی مگر مخالفین کو شور مچانے کا موقع تو ضرور مل جائے گا اور یہ بات بہت سے لوگوں کے لیے ہدایت سے محروم ہو جانے کا ذریعہ ہو جائے گی۔ اسی طرح ہندوستان میں دیو بند ہے جو علمی لحاظ سے کافی شہرت رکھتا ہے۔ اگر ہمارے علماء وہاں کے علوم سے واقف نہ ہوں اور وہاں کے علماء کو ساکت نہ کر سکیں تو وہاں کے علماء اپنے علمی غرور میں سچائی کو ماننے سے محروم رہ جائیں گے اور اُن کے ماننے والے بھی ہدایت نہ پاسکیں گے۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو صداقت کو اُس کے اصل معیار پر پرکھتے ہیں۔ ایسے لوگ اُسی قسم کے ہوتے ہیں جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ تھے۔ وہ لوگ نہ صرف و نحو سے واقف تھے اور نہ د دیگر ایسے علوم سے ۔ حدیث کے قواعد تو مدون ہی بعد میں ہوئے۔ وہ تو صرف اتنا جانتے تھے کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات سُنی اور اُسے آگے سنانا ہے۔ اُس وقت تک اسناد وغیرہ کے متعلق پیچیدگیاں پیدا ہی نہ ہوئی تھیں۔ یہ تو سو دو سو سال بعد میں ہوئی ہیں۔ تو اصل صداقت معلوم کرنے کے لیے ان باتوں کی ضرورت نہیں۔ مگر جن لوگوں سے ہمارا مقابلہ ہے اُن کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کی ضرورت ہے۔ اور پھر وسعتِ نظر کے لیے بھی یہ بات نہایت ضروری ہے کہ ہر قسم کے علوم سے مزین علماء اور چوٹی کے علماء جماعت میں موجود ہوں۔ اور میر محمد اسحق صاحب کی وفات نے میری زیادہ توجہ اس طرف پھیری کہ جماعت میں چوٹی کے علماء پیدا کرنے کے لیے زیادہ تیزی سے کام ہونا چاہیے۔ گو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ میں ایک سال پہلے سے ہی اس