خطبات محمود (جلد 25) — Page 703
$1944 703 خطبات محمود تھے۔ان میں سے چار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے لے کر خلافتِ اولی تک وفات پاگئے۔ان کے بعد مولوی عبد القادر صاحب، مولوی برہان الملک صاحب، قاضی امیر حسین صاحب، مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب، مولوی محمد اسمعیل صاحب، حافظ روشن علی صاحب اور میر محمد اسحق صاحب باقی رہ گئے۔اور اس عرصہ میں جماعت کی توجہ ایسے کاموں کی طرف رہی کہ اسے علماء پیدا کرنے کا خیال ہی نہ آیا اور اس نے ایسے علماء پیدا کرنے کا کوئی انتظام نہ کیا جو ہر قسم کے دینی علوم کی تعلیم دے سکتے ہوں۔اور اِس وقت یہ حالت ہے کہ اس قسم کے علماء میں سے صرف ایک باقی ہیں۔یعنی سید محمد سرور شاہ صاحب اور وہ بھی اب نہایت ضعیف العمر ہو چکے ہیں۔اس وقت ان کی عمر ستر سال کے قریب ہے۔جس طرح حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور مولوی برہان الدین صاحب کی وفات کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی توجہ اس طرف مبذول ہوئی کہ ایک مدرسہ قائم کیا جانا چاہیے جہاں ان علماء کے جانشین تیار ہو سکیں اور آپ نے مدرسہ احمدیہ جاری کرایا۔اسی ہے طرح میر محمد اسحق صاحب کی وفات کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ جماعت میں علماء کی تیاری کا ہے کام بہت تیزی سے ہونا چاہیے۔اگر چہ جامعہ احمد یہ موجود ہے اور اس میں بہت سے نوجوان مولوی فاضل کا امتحان بھی پاس کرتے تھے مگر اس زمانہ کے مولوی فاضل پاس اور پرانی طرز میں کے علماء میں بہت بڑا فرق ہے۔مولوی فاضل کا امتحان ایک خاص قسم کا نصاب پڑھ کر دیا ہے جاسکتا ہے۔مگر اسے پاس کر کے کوئی شخص ایسا عالم نہیں ہو سکتا کہ ہر قسم کی علمی مشکل کو حل کرنے کے قابل ہو۔بہت سی علمی کتابیں ایسی ہیں کہ جنہیں نہ وہ پڑھتے ہیں اور نہ ہی اُن کے پڑھنے کا ان کو موقع مل سکتا ہے اور اس لیے جو علماء تیار ہو رہے تھے وہ درمیانی قسم کے تھے۔مگر کسی قوم کے دیگر اقوام پر غالب آنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس میں ایسے چوٹی کے علماء ہوں جو ہر علم و فن کے ہر گوشہ میں مخالفین کو شکست دے سکیں۔مثلا فقہ کا علم ہے اس کے ایسے علماء ہوں جو فقہی لحاظ سے بھی احمدیت کے نقطہ نگاہ کی فضیلت ثابت کر سکیں۔پھر احادیث کا علم ہے، پرانی تفاسیر ہیں، فلسفہ ہے تو ہر فن کے ایسے علماء کا جماعت میں ہو ناضروری ہے جو احمدیت کے نقطہ نگاہ کی فضیلت ثابت کر سکیں اور اس کے لیے ضروری ہے