خطبات محمود (جلد 25) — Page 695
1944ء 695 خطبات محمود غرض اس سکیم کو کامیاب بنانے کے لیے سر دست ایک مرکزی دفتر کا کھولا جانا ضروری ہے۔ دفتر کا کام یہ ہو گا کہ وہ لوگوں میں صنعت اور تجارت کے متعلق تحریک کرتا رہے۔ اسی طرح اس کا یہ بھی کام ہو گا کہ وہ صناعوں اور تاجروں کی فہرستیں تیار کرے، کمیٹی کے اجلاس بلائے اور پھر اس امر کی نگرانی رکھے کہ تاجر اور صناع ان قواعد کی کہاں تک پابندی کر رہے ہیں جو اسلام نے ان کے لیے تجویز کیے ہیں۔ اس غرض کے لیے ایک ایسا افسر بھی مقرر کرنا پڑے گا جس نے تجارتی تعلیم پائی ہو یا تجارتی کاموں سے اُس کا تعلق رہا ہو۔ اُس کا کام یہ بھی ہو گا کہ وہ جماعتوں میں دورہ کر کے صناعوں اور تاجروں کو منظم کرے۔ اسی طرح اُس کا یہ بھی کام ہو گا کہ وہ خط و کتابت کر کے ساری جماعت کے صناعوں اور تاجروں کی آراء اور اُن کے خیالات معلوم کر تا رہے تاکہ اُن آراء سے جماعتی رنگ میں فائدہ اٹھا یا جا سکے ۔ میں سمجھتا ہوں پہلے سال اس کام پر دس ہزار روپیہ خرچ ہو گا اور چونکہ یہ کام محض تاجروں اور صناعوں کی بہبودی کے لیے شروع کیا جا رہا ہے اِس لیے میں صرف تاجروں اور صناعوں کو یہ تحریک کرتا ہوں کہ وہ اِس چندہ میں حصہ لیں اور دس ہزار روپیہ جو پہلے سال کا خرچ ہے جمع کر دیں۔ سر دست اس کمیٹی کا ایک سیکرٹری مقرر کر دیا جائے گا جو اُس وقت تک سلسلہ کے ماتحت کام کرے گا جب تک کہ تمام تاجر اور صناع منظم نہیں ہو جاتے۔ پھر آہستہ آہستہ تاجر اور صناع اپنا دفتر بھی بنا سکتے اور اپنے کام کو زیادہ وسیع کر سکتے ہیں۔ بہر حال سیکرٹری کا کام یہ ہو گا کہ وہ تاجروں سے مشورہ طلب کرے کہ کون کونسے ایسے کام ہیں جن کو اگر شروع کیا جائے تو سلسلہ کے لیے وہ مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس قسم کی تمام تجاویز کو جمع کرنا سیکرٹری کا کام ہو گا۔ اسی طرح اس کا ایک یہ کام بھی ہو گا کہ تاجر اور صناع ایک دوسرے سے تعاون کریں اور ایک دوسرے کی تجارت اور صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے۔ مثلاً می ایک شخص نے کسی شہر میں اپنا کار خانہ کھولا ہوا ہو اور وہ اپنے حلقہ میں نہایت مفید کام کر رہا ہو تو اگر اس کی ایجنسیاں مختلف جگہوں میں قائم کر دی جائیں تو یہ بات اُس کارخانہ کی ترقی میں اور بھی محمد ہو سکتی ہے۔ پس تاجروں اور صناعوں کو اس بات پر آمادہ کیا جائے گا کہ وہ ایک دوسرے سے تعاون کریں اور اپنے اپنے شہر یا اپنے اپنے صوبہ کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے