خطبات محمود (جلد 25) — Page 664
1944ء 664 خطبات محمود اپنی تجارتیں بند کر دیں۔ آئندہ وہ کوئی مال ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں لے جاسکتے کیونکہ ہمارے مذہب میں یہ بات نا جائز ہے۔ لیکن یہ دونوں باتیں عقل کے خلاف ہیں۔ نہ تجارتوں کو بند کیا جاسکتا ہے اور نہ ان تجارتوں میں حصہ لینے والوں کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ بے شک ہندو یا سکھ یا عیسائی ہی رہیں اسلام میں داخل نہ ہوں۔ بہر حال دو صورتوں میں سے کسی ایک صورت کو اختیار کیے بغیر ہمارے لیے کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ یا تو ہم سب تجارتوں کو بند کر کے دنیا کے تمدن اور اس کی تہذیب کو برباد کر دیں اور لوگوں پر ان کی زندگیاں وبالِ جان بنا دیں اور یا پھر یہ کہہ دیں کہ ان تجارتوں میں حصہ لینے والوں کا مسلمان ہونا نا جائز ہے۔ اگر کارخانوں کا کوئی مالک ہمارے پاس مسلمان ہونے کے لیے آتا ہے تو یا تو اُسے یہ کہنا پڑے گا کہ تم اپنے کارخانے کو بند کر دو اور یا پھر اُسے یہ کہنا پڑے گا کہ چونکہ کارخانے کو بند کرنا دنیا کی مشکلات کو بڑھا دیتا ہے۔ اِس لیے بے شک تم مسلمان نہ بنو ہندو یا سکھ یا عیسائی ہی رہو۔ یا موٹر کے کارخانے کی مثال لے لو۔ ایک ایک موٹر ، چار چار ، دس دس، بیس بیس ہزار روپے میں آتا ہے اور موٹر کا کارخانہ وہی شخص کھول سکتا ہے جس کے پاس دس بیس کروڑ روپیہ موجود ہو۔ اگر اسلام دنیا کمانے کی اجازت نہ دیتا اور موٹروں کے کارخانہ کا کوئی مالک ہمارے پاس اسلام قبول کرنے کے لیے آتا تو یا تو ہم اُسے یہ کہتے کہ تم مسلمان نہ بنو۔ کیونکہ اگر تم مسلمان بنے تو دنیا کو نقصان پہنچے گا اور تمہیں اپنا کارخانہ بند کرنا پڑے گا۔ تم بے شک عیسائی ہی رہو یا سکھ ہی رہو یا ہندو ہی رہو اسلام کو قبول مت کرو۔ اور یا پھر ہم اُسے یہ کہتے کہ تم آئندہ موٹریں بنانی چھوڑ دو اور کارخانہ بند کر دو۔ مگر یہ دونوں صورتیں ایسی ہیں جو نا جائز ہیں۔ نہ اسلام ایک کو جائز قرار دیتا ہے اور نہ دوسری صورت کو درست تسلیم کرتا ہے۔ ان مشکلات کو اپنے سامنے دیکھتے ہیں ہوئے ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ صنعت و حرفت اور تجارت کو روکا نہیں جاسکتا اور دوسری طرف قبولِ اسلام میں بھی کسی قسم کی دیوار کو حائل نہیں کیا جاسکتا۔ اِس لیے ضروری ہے کہ ان دونوں حالتوں کے درمیان کوئی راستہ تلاش کیا جائے جس سے یہ دونوں مشکلات دور ہو جائیں۔ نہ دنیا کے تمدن اور اس کی تہذیب کو نقصان پہنچے اور نہ اسلام میں داخل ہونے سے کسی شخص کو روکا جاسکے۔ اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے اسلام نے اسی نظریے کے ماتحت بعض قواعد