خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 662 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 662

$1944 662 خطبات محمود کام لیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اُن کے دروازے پر بار بار آتا اور اپنی تنخواہ کا مطالبہ کرتا ہے۔اس پر بھی وہ اُسے اُس کا حق ادا نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں آج نہیں کل آنا۔کل آتا ہے تو کہتے ہیں پرسوں آنا۔اِس طرح بار بار اُسے اپنے پاس آنے پر مجبور کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد بھی کسی دن اُسے ایک روپیہ دے دیتے ہیں، کسی دن دو روپے دے دیتے ہیں، کسی دن چار روپے دے دیتے ہیں۔گویا اُسے خراب کر کے اُس کی مزدوری دیتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی مزدوری سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔اگر اُسے اکٹھی اُجرت مل جاتی تو وہ اپنی ضروریات اکٹھی خرید لیتا اور اس طرح اُسے فائدہ رہتا۔لیکن چونکہ اُسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اجرت دی جاتی ہے اس لیے اُسے تکلیف الگ اٹھانی پڑتی ہے اور پھر اکٹھی اجرت ملنے سے جو فائدہ اسے پہنچ سکتا تھا وہ بھی نہیں پہنچتا۔پس اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ مزدور کے ساتھ اِس قسم کا سلوک نہ کیا جائے۔اُسے اُس کا حق پورا ادا کرو اور پھر عین وقت پر ادا کرو۔یہ نہ ہو کہ وہ اپنے حق کے لیے تمہارے دروازے کھٹکھٹا تار ہے اور تم اُسے بار بار ٹالتے رہو۔گیارھواں حکم اسلام یہ دیتا ہے کہ بیشک تم مال کماؤ لیکن دیکھو اس کے نتیجے میں تمہارے اندر کیبر اور خیلاء پیدا نہ ہو۔اگر کبر اور خیلاء تمہارے اندر پیدا ہو جائے تو پھر مال کمانا تمہارے لیے جائز نہیں ہو گا۔بارھواں حکم اسلام یہ دیتا ہے کہ مالدار شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی موت کے وقت رشتہ داروں کو یہ وصیت کر جائے کہ وہ اُس کے مال کا کچھ حصہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اُس کے غریب بندوں کے فائدہ اور ترقی کے لیے خرچ کر دیں۔14 یہ بارہ موٹے موٹے حکم ہیں جو قرآن اور احادیث سے معلوم ہوتے ہیں۔پس صنعت و حرفت اور تجارت کو روکا نہیں جاسکتا بشر طیکہ وہ شرائط پوری ہوں جن کا اوپر ذکر کیا ہے گیا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ اسلام تجارت اور صنعت و حرفت سے منع نہیں کرتا۔اگر اسلام منع کرتا تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ اسلام اس امر کو روا رکھتا ہے کہ دنیا کا ایک حصہ تو اسلام میں داخل ہو لیکن دوسرا حصہ بے شک داخل نہ ہو۔مثلاً جہاز رانی دنیا کی تجارت کا