خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 658 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 658

$1944 658 خطبات محمود اس میں کسی قسم کی روک نہیں۔کیونکہ تمہارے یہ کام ہمارے دین اور ہمارے ذکر میں حائل نہیں ہیں۔پس پہلی شرط جس کو اسلام پیش کرتا ہے وہی ہے جس کا اِس آیت میں ذکر آتا ہے کہ رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ مومن بے شک تجارت بھی کرتے ہیں، خرید و فروخت بھی کرتے ہیں، صنعت و حرفت بھی کرتے ہیں مگر اِس اصل کو ہمیشہ مد نظر رکھتے ہیں کہ یہ چیزیں خدا تعالیٰ کے ذکر اور اُس کے دین کی مدد میں روک بن کر حائل نہ ہو جائیں۔پس ایک مومن اور غیر مومن میں فرق یہ ہے کہ مومن بھی تجارت کرتا ہے اور غیر مومن بھی تجارت کرتا ہے، مومن بھی صنعت و حرفت اختیار کرتا ہے اور غیر مومن بھی صنعت و حرفت اختیار کرتا ہے مگر غیر مومن جب ان کاموں میں مشغول ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ ہے کی طرف سے اُس کی توجہ بالکل ہٹ جاتی ہے۔لیکن جب ایک مومن یہ کام اختیار کرتا ہے تو یہ چیزیں خدا تعالیٰ کے ذکر میں روک نہیں بنتیں، ان مشاغل کے باوجود اُس کی ذکر الہی کی عادت پھر بھی قائم رہتی ہے، نمازیں پھر بھی باقاعدگی سے ادا کرتا ہے، زکوۃ پھر بھی با شرح ادا کرتا ہے، روزے پھر بھی پوری احتیاط سے رکھتا ہے، حج پھر بھی استطاعت پر کرتا ہے۔گویا د نیوی مشاغل دین کی خدمت کے راستہ میں روک نہیں بنتے۔اور چونکہ دین کا پہلو مضبوط رہتا ہے اس لیے اسلام کہتا ہے کہ ہمیں تمہارے دنیا کمانے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر مثلاً تبلیغ کا وقت آجائے اور یہ فیصلہ کیا جائے کہ جماعت کا ہر فرد تبلیغ کے لیے وقت دے اور اُس وقت کوئی شخص یہ کہے کہ میں تبلیغ کے لیے وقت کس طرح دے سکتا ہوں میں اگر وقت دوں تو میری دکان کا نقصان ہوتا ہے تو اسلام کہے گا یہ تجارت تمہارے لیے جائز نہیں۔یا اگر کوئی کارخانہ دار کہے کہ میں کس طرح تبلیغ کے لیے باہر جا سکتا ہوں میں اگر باہر جاؤں تو کار خانے کا تمام کام درہم برہم ہو جائے گا تو اسلام کہے گا ایسا کارخانہ تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔پس مومن وہی ہیں کہ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ تجارت اور بیج اُن کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے نہیں روکتی، دین کے کاموں میں یہ چیزیں حائل نہیں بنتیں بلکہ جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز بلند ہوتی ہے ایک مومن تاجر، ایک مومن کارخانہ دار اور ایک