خطبات محمود (جلد 25) — Page 655
1944ء 655 خطبات محمود ** زمیندارہ کام کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے بلکہ ان تمام کاموں کو چھوڑ کر صرف خدا تعالیٰ کی یاد اور اُس کی محبت میں اپنی عمر گزار دینی چاہیے۔ مگر ایسی جماعتیں ہزاروں اور لاکھوں سے سے ل آگے کبھی نہیں بڑھیں۔ کیونکہ وہ فطرتِ انسانی کے خلاف تعلیم دیتی ہیں اور اگر کوئی جماعت باوجود اس تعلیم کے بڑھی ہے تو وہ اس تعلیم کو پس پشت پھینک کر بڑھی ہے اس پر عمل کر کے نہیں بڑھی۔ مثلاً حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ انہوں نے ایک شخص سے کہا پہلے اپنا مال لٹاؤ اور پھر میرے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لیے آؤ۔ یا کہا جاتا ہے کہ اُنہوں نے اپنے حواریوں سے یہ بات کہی کہ " اونٹ کا شوئی کے ناکے میں سے نکل جانا اِس سے آسان ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو"۔ یہ تعلیم ہے جو ہو"۔1 حضرت مسیح علیہ السلام نے دی اور جس کا موجودہ اناجیل میں ذکر آتا ہے۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ بے شک عیسائی بڑھے اور اُنہوں نے دنیا میں خوب ترقی کی لیکن کیا عیسائیوں کی ترقی اِس تعلیم پر عمل کرنے کے نتیجہ میں ہوئی یا اس تعلیم کو رڈ کرنے اور اس کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دینے کے نتیجہ میں ہوئی؟ ہر شخص جو ذرا بھی عقل و فہم سے کام لے سمجھ سکتا ہے کہ عیسائیوں کی ترقی اس تعلیم کا نتیجہ نہیں بلکہ اس تعلیم سے منہ پھیر لینے کا نتیجہ ہے۔ بے شک دنیا میں سب سے زیادہ مال آج عیسائیوں کے پاس ہے، دنیا میں سب سے زیادہ کارخانے آج عیسائیوں کے قبضہ میں ہیں، دنیا کی تجارتوں کا اکثر حصہ یور بین اقوام کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح زراعت پر ان کا قبضہ ہے، مختلف پیشوں اور فنون پر ان کا تسلط ہے۔ اور ہم تسلیم کرتے ہیں کہ عیسائیت نے ترقی کی مگر حضرت مسیح کی طرف جو تعلیم منسوب کی جاتی تھی اُسے توڑ کر اور اُس کی خلاف ورزی کر کے انہوں نے ترقی کی ہے اُس تعلیم پر عمل کر کے ترقی نہیں کی۔ (2) پھر بعض قو میں ایسی ہیں جو کہتی ہیں کہ مذہب کو دولت کمانے کے ذرائع سے کوئی واسطہ نہیں۔ دین اور مذہب عقیدہ سے تعلق رکھنے والی چیز ہے۔ مذہب کا اِس بات سے کیا تعلق ہے کہ ہم کیا کماتے ہیں، کس طرح کماتے ہیں اور کن ذرائع سے کماتے ہیں۔ ایسی جماعتوں نے بے شک دنیا میں ترقی کی مگر اُن کا مذہب ایک مُرجھائی ہوئی جھاڑی کی طرح رہ گیا۔ وہ جماعتیں بے شک دنیا میں بڑھیں اور اُنہوں نے خوب ترقی کی مگر اس نظریہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ