خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 654 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 654

$1944 654 خطبات محمود اپنے ساتھ اپنی خوبیاں لاتی ہے۔اور اپنے ساتھ اپنے نقائص بھی لاتی ہے بہر حال بڑھنے والی جماعت مجبور ہے کہ وہ چاروں گوشوں میں ترقی کرے۔اگر وہ چاروں طرف ترقی نہیں کرے گی تو وہ ایک بیمار جسم کی صورت اختیار کر لے گی۔جیسے اچھا درخت وہی ہوتا ہے جس کی شاخیں چاروں طرف پھیلی ہوئی ہوں۔اگر کسی درخت کی شاخیں صرف ایک طرف نکلی ہوئی ہوں یا دو طرف پھیلی ہوئی ہوں یا صرف تین طرف پھیلی ہوئی ہوں تو ہر شخص دیکھ کر اسے میں بیمار اور کمزور قرار دے گا۔اعلیٰ درجے کا درخت قرار نہیں دے گا۔پس مذہبی جماعت ہو یا دنیا کی کوئی اور جماعت ہو جب کبھی ترقی کرے گی اُس کے کاموں میں تنوع پید ا ہو تا چلا جائے گا، اُس کے کاموں کی مختلف قسمیں نکلتی آئیں گی اور اُس کے کاموں کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا۔اُس کی مثال بالکل بچہ کی سی ہوتی ہے کہ جب وہ بڑھتا ہے تو اس کے تمام ہے اعضاء متناسب طور پر بڑھتے چلے جاتے ہیں۔پہلے تو اُس کے جسم کے سارے اعضاء بنتے ہیں اور پھر سارے اعضاء ترقی کرتے جاتے ہیں۔اسی طرح جوں جوں وہ جماعت طاقت پکڑتی جاتی ہے اُس کے باقی ماتحت حصے بھی اُس کے ساتھ ہی ترقی کرتے چلے جاتے ہیں۔بچہ جب بڑھتا ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ اُس کے ہاتھ چھوٹے رہ جائیں اور پاؤں بڑھ جائیں، یا پاؤں چھوٹے رہ جائیں اور میں ہاتھ بڑھ جائیں، یا سر تو بڑھتار ہے مگر سینہ نہ بڑھے، یاسینہ تو بڑھے مگر سر چھوٹا ہے ایسا نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کی ساری چیزیں یکساں طور پر ترقی کرتی ہیں۔اسی طرح جب کوئی جماعت پھیلنے لگتی ہے تو می جہاں اُس کے پھیلنے کے ساتھ دین ترقی کرتا ہے وہاں اُس کی دنیا بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ہاں یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مذہبی جماعتیں اپنی ترقی کی نسبت تین قسم کے خیالات رکھتی ہیں:۔(1) بعض جماعتوں کا یہ خیال ہے کہ مذہب نام ہی اس بات کا ہے کہ دنیا کو چھوڑ دیا جائے اور کلی طور پر تمام افراد اپنے تمام اوقات دینی کاموں میں مشغول رکھیں۔ایسی جماعتیں یا تو دنیا ہے میں صرف تصوف کا ایک سلسلہ ہو کر رہ گئی ہیں اور یا پھر وہ اپنی بات پر عمل نہیں کر سکیں۔بہت سے سادھو اور فقیر دنیا میں ایسے نظر آتے ہیں جو اس قسم کی تعلیم دیتے ہیں کہ دنیا کمانی من نہیں چاہیے، کارخانوں کو جاری نہیں کرنا چاہیے، تجارتوں میں مشغول نہیں ہونا چاہیے ، میں