خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 627 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 627

$1944 627 خطبات محمود مالدار طبقہ سے زیادہ چندہ غرباء کا ہوتا ہے۔غرباء کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔پس اگر ہماری جماعت کی غریب مستورات سے اٹھنی اٹھنی بھی جمع کی جائے تو پچاس ہزار روپیہ بن جائے گا۔پس عورتوں کے ذمہ ایک لاکھ روپیہ بھی لگا دیا جائے تو آسانی سے دے سکتی ہیں۔مگر چونکہ تحریک جدید بھی اور دوسری بھی بعض مدیں ہیں اس لیے فی الحال اکیس ہزار روپیہ کی رقم ان کے ذمہ اور لگا تا ہوں۔بارہ ہزار کا ان کا پہلا وعدہ ہے۔اکیس ہزار روپیہ یہ ملا کر تینتیس ہزار روپے ہو جائیں گے۔چوتھا حصہ حیدر آباد دکن صوبہ مدراس اور بمبئی اور میسور کی جماعتوں کو دیتا ہوں۔گویا بمبئی، مدراس اور ان صوبوں سے ملحقہ ریاستیں یہ سب مل کر اکیس ہزار روپیہ اپنے ذمہ لے لیں۔اگر یہ جماعتیں اخلاص سے چندہ دیں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ رقم دے سکتی ہیں۔گو ان علاقوں میں جماعتیں کم ہیں مگر آسودہ حال لوگ خاصی تعداد میں ہیں۔باقی تین حصے رہ گئے۔چونکہ ایک ترجمہ کے خرچ کا وعدہ لاہور کی جماعت نے اور ایک ترجمہ کے خرچ کا وعدہ قصور کے عبدالرحمان صاحب مل اونر نے کیا ہوا ہے اور یہ بارہ ہزار روپیہ کی رقم بنتی ہے اور صرف نو ہزار کی زائد ضرورت رہتی ہے۔پس اس حصہ کی رقم کو پورا کرنے کی ذمہ داری میں اضلاع لاہور، فیروز پور، شیخوپورہ، گوجر انوالہ اور امر تسر پر مقرر کرتا ہوں۔یہ پانچ ہے اضلاع مل کر اکیس ہزار روپیہ آسانی سے دے سکتے ہیں۔اگر جماعتوں کے کارکن اپنی ذمہ داری کو سمجھیں تو ان پانچ ضلعوں کے لیے یہ کوئی بڑی رقم نہیں۔ایک ترجمہ قرآن مجید کی ہے چھپوائی کا خرچ اور ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ اکیس ہزار روپیہ صوبہ سرحد اور صوبہ سندھ مل کر اُٹھا سکتے ہیں۔ان صوبوں میں جماعتیں بے شک کم ہیں لیکن اگر وہاں کے کارکن صحیح طور پر کوشش کریں تو اتنا چندہ کوئی مشکل نہیں۔پھر اس کی ادائیگی کی مدت بھی ایک سال تک چلے گی اس لیے اس عرصہ میں ایسی کوشش کی جاسکتی ہے کہ بغیر دوسرے چندوں پر اثر ہونے کے یہ رقم آسانی سے جمع ہو سکے۔31 اکتوبر 1945ء تک اس وعدہ کی ادائیگی کی میعاد ہے۔اس کے متعلق مجھے پوری واقفیت نہیں کہ ان صوبوں میں جماعتوں کی تعداد کتنی ہے۔اگر بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی تعداد تھوڑی ہے اور اس لحاظ سے اکیس ہزار روپیہ کی رقم زیادہ ہوئی تو پھر پنجاب کے بعض اضلاع مثلاً ملتان، ڈیرہ غازیخاں، مظفر گڑھ ، راولپنڈی ، کیمل