خطبات محمود (جلد 25) — Page 626
خطبات محمود 626 $1944 یہ بوجھ اُٹھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔پس ان سات حصوں میں سے پہلے حصہ کے بوجھ اٹھانے کا حق کلکتہ کو ملتا ہے۔یعنی قرآن مجید کے ایک ترجمہ کی چھپوائی اور ایک کتاب کی مکمل اشاعت کا خرچ۔اور یہ حق میں ان کو دیتا ہوں۔اگر وہ چاہیں تو ہماری طرف سے اجازت ہے کہ وہ بنگال کی دوسری جماعتوں کو بھی اس میں شامل کر لیں۔اس کے علاوہ قرآن مجید کے ایک ترجمہ کی اشاعت اور ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ قادیان کی جماعت کے ذمہ لگاتا ہوں۔یہ دو تراجم کے خرچ کے علاوہ ہو گا۔اگر میری اور میرے خاندان کی حالت اس وقت ایسی ہوتی کہ ہم اپنے ذمہ ایک ترجمہ کی اشاعت کا خرچ علیحدہ لے سکتے تو میں اپنا حصہ الگ لے لیتا لیکن سر دست میں اس کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔اس لیے سر دست ہم بھی باقی جماعت قادیان کے ساتھ شامل ہو کر ایک ترجمہ کی اشاعت میں حصہ لے لیں گے۔قرآن مجید کے ایک ترجمہ کی چھپوائی کا خرچ اور ایک کتاب کی ایک زبان میں مکمل اشاعت کا خرچ میں لجنہ اماء اللہ کے ذمہ لگاتا ہوں۔لجنہ کی طرف سے بارہ ہزار کا وعدہ پہلے آچکا ہے۔یعنی دو تراجم کرانے کا خرچ اس بارہ ہزار کو اِس نئی ذمہ داری کے ساتھ ملایا جائے تو گل تینتیس ہزار روپیہ بنتا ہے۔اس رقم کا جمع کرنا ان کے لیے مشکل نہیں۔میں سمجھتا ہوں اگر وہ اچھی طرح کوشش کریں تو تینتیس من ہزار روپیہ سے بھی زیادہ جمع کر سکتی ہیں۔مسجد جرمن کے لیے ستر ہزار سے زیادہ روپیہ انہوں نے جمع کر لیا تھا اور اب اُس وقت سے جماعت بھی زیادہ ہے اور مالی حیثیت کے لحاظ سے بھی پہلے کی نسبت اب اچھی حالت ہے۔اس لیے بغیر اس کے کہ دوسرے چندوں پر کوئی اثر پڑے وہ یہ بوجھ آسانی سے اٹھا سکتی ہیں۔بلکہ حق یہ ہے کہ وہ اس سے زیادہ بوجھ اٹھا سکتی ہیں۔اگر لجنہ کی تنظیم اچھی ہو اور اچھا کام کرنے والیاں ہوں جو پروپیگینڈا کریں اور چٹھیاں لکھیں تو وہ ایک لاکھ روپیہ بغیر کسی مشکل کے بڑی آسانی سے ادا کر سکتی ہیں۔ہماری جماعت میں دو تین سو آدمیوں کی بیویاں ایسی ہیں جو سو سو روپیہ آسانی سے دے سکتی ہیں۔یہ سو سو روپیہ میں نے کم سے کم بتایا ہے ورنہ بعض ایسی بھی ہیں جو تین تین چار چار سو دے سکتی ہیں۔بعض ایسی ہیں جو ہزار ہزار روپیہ دے سکتی ہیں۔بہر حال ایسی مالدار عور تیں آسانی سے تیس چالیس ہزار دے سکتی ہیں اور باقی متوسط طبقہ اور غرباء کو ملا کر آسانی سے ایک لاکھ روپیہ جمع ہو سکتا ہے کیونکہ می ا