خطبات محمود (جلد 25) — Page 625
$1944 625 خطبات م محمود ترجمہ کا خرچ اور ایک ترجمہ کی اشاعت کا خرچ جس کے معنے ہیں اکیس ہزار روپیہ اپنے ذمہ لیا ہے۔کلکتہ کی جماعت نے ابھی ابھی بغیر دوسرے لازمی چندوں میں کوئی کمی کرنے کے پچاس ہزار روپیہ وہاں کی مسجد کے لیے جمع کیا تھا۔اتنی بڑی قربانی کے بعد وہ بھی زیادہ روپیہ نہیں ہے دے سکتے تھے مگر خدا تعالیٰ نے ان کو توفیق دی اور انہوں نے اکیس ہزار روپیہ اپنے ذمہ لیا ہے۔مگر عام طور پر وہ حلقے جو ایک قرآن کریم کے ترجمہ کی اشاعت اور ایک کتاب کے ترجمہ اور اُس کی اشاعت کا بوجھ اُٹھا سکیں اتنے وسیع ہیں کہ اپنے علاقہ سے مشورہ کرنا اُن کے لیے بہت وقت چاہتا ہے۔سوائے قادیان کے حلقہ کے کہ یہ جماعت ایسی ہے کہ وہ اکیلی یہ بوجھ اٹھا سکتی ہے اور بوجہ ایک شہر کی جماعت ہونے کے فوراً مشورہ کر سکتی ہے۔باقی جماعتیں ایسی ہیں جو اگر حصہ لینا چاہیں تو تین تین چار چار یا پانچ پانچ ضلعے مل کر اس رقم کو پورا کر سکتی ہیں اور اس نے وجہ سے اُن کا جلدی مشورہ کر کے اس تحریک میں حصہ لینے کی اطلاع دینا مشکل بلکہ ناممکن ہے۔لیکن جن کے دلوں میں جوش اور اخلاص ہے اُن کو اس موقع سے محروم کر دینا بھی ظلم ہے ہے۔مومن ہی سمجھ سکتا ہے کہ قربانی کا موقع نہ ملنے سے اُسے کتنی تکلیف ہوتی ہے۔منافق تو موقع نکل جانے پر سمجھتا ہے چلو چھٹی ہوئی۔مگر مومن کی اس چھ ہزار یا پانچ ہزار یا دس ہزار ہے روپیہ کی قربانی کو اگر قبول نہ کیا جائے تو اس کو یہ نہیں معلوم ہو تا کہ اُس کو دس ہزار روپیہ واپس کر دیا گیا ہے یا پانچ ہزار روپیہ واپس کر دیا گیا ہے یا چھ ہزار روپیہ واپس کر دیا گیا ہے بلکہ اُسے یوں معلوم ہوتا ہے کہ چھ ہزار خنجر اُس کے سینہ میں گھونپ دیا گیا ہے۔اس تکلیف کو وہی سمجھ سکتا ہے جس کی روحانی آنکھیں ہوں۔دوسری دنیا اس تکلیف کو نہیں سمجھتی۔پس ان حالات کو مد نظر رکھ کر میں نے تجویز کیا ہے کہ قرآن مجید کے تراجم کی اشاعت کا خرچ اور سات زبانوں میں ایک ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ میں خود ہی علاقوں پر تقسیم کر دوں تاکہ سب کو اس تحریک میں حصہ لینے کا موقع مل سکے اور اس ثواب سے وہ محروم نہ رہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کلکتہ کی جماعت نے خود اپنے ذمہ اکیس ہزار روپیہ لیا ہے۔اس کے علاوہ وہاں کے ایک خاندان کے دو بھائیوں نے چھ ہزار روپیہ جماعت علیحدہ اپنے ذمہ لیا ہے۔پس وہاں سے یہ رقم آسانی سے جمع ہو سکتی ہے۔کیونکہ انہوں نے خود ہی ہم