خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 623 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 623

$1944 623 خطبات محمود صدر انجمن کے کارکنوں نے بھی ایک ترجمہ کا خرچ اپنے ذمہ لیا ہے۔کارکنوں کے علاوہ دوسروں کے چندہ کا وعدہ ایک لاکھ سے زیادہ کا ہو چکا ہے اور ابھی اور ہو رہا ہے۔اب اُن جماعتوں یا افراد کی طرف سے جن کا حصہ نہیں لیا جاسکا الحاح کی چٹھیاں آرہی ہیں اور وہ اصرار کے ساتھ لکھ رہی ہیں کہ ہمیں بھی اس چندہ میں حصہ لینے کا موقع دیجیے۔لیکن میں سات تراجم میں سے بارہ حصہ لینے والوں کو کس طرح موقع دے سکتا ہوں۔میں یہ بھی نہیں کرے کہ جو پہلے ہوں اُن کو پیچھے کر دوں۔اِس طرح ان تراجم میں وہی حصہ لے سکے گا جو قُرب میں رہتا ہے۔میں اس میں دخل نہیں دے سکتا اور کوئی صورت انسانی ذہن میں ایسی نہیں آسکتی کہ قرب میں رہنے والوں اور باہر رہنے والوں کو قربانی کا ایک سا موقع دیا جا سکے اور نہ ہی کوئی ایسی شرط لگائی جاسکتی ہے جس سے دونوں برابر ہو جائیں۔فرض کرو ہم یہ شرط لگا دیں کہ فلاں وقت کے بعد آکر اپنے وعدے دے جائیں تو اُس وقت بھی جو قرب میں رہتا ہو گا وہ دروازہ پر آکر کھڑا رہے گا اور جب بھی وہ وقت ہو گا اپنا وعدہ دے جائے گا۔پس ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس سے یہ خدائی فرق مٹ جائے۔اس کا مٹانا نا ممکن ہے۔صرف بے وقوف یا خشک فلسفی جنہوں نے روحانیت اور ایمان میں قدم نہیں رکھا وہی اس قسم کی مساوات کا قائل ہو سکتا ہے جس میں کوئی امتیاز باقی نہ رہے۔تعلیم کو ہی لے لیا جائے تو کیا سارے تعلیم حاصل کرنے والے ایک جیسی قابلیت اور ایک جیسے دماغ کے ہوتے ہیں؟ اور کیا سکول میں پڑھنے ہے والوں میں سے سارے انٹرنس پاس کر لیتے ہیں؟ سارے لڑکے ایک ہی وقت میں ایک ہی ہے استاد سے ایک ہی کتاب پڑھتے ہیں مگر اُن میں سے ایک کا دماغ نہایت اعلیٰ ہوتا ہے اور اس کے ہے اندر زیادہ قابلیت پیدا ہو جاتی ہے اور دوسرے کے اندر وہ قابلیت پیدا نہیں ہوتی۔یہی انٹرنس پاس تھے یا ان سے کم تعلیم یافتہ لوگ جن میں سے ایڈیسن اور ایسے ہی اور مشہور لوگ پیدا ہوئے کہ بڑے بڑے انٹرنس پاس اور بڑے بڑے سائنسدان اُن کے سامنے طفل مکتب کی بھی حیثیت نہیں رکھتے۔ایک طرف وہ بھی تھے اور دوسری طرف بعض انٹرنس پاس بھی ملی ہوتے ہیں کہ اگر ان کو ایک فقرہ لکھایا جائے تو صحیح نہیں لکھ سکیں گے۔پس اس قسم کی ہے مساوات انسانی طاقت سے بالا ہے۔ایسے موقع پر یہی کیا جائے گا کہ جنہوں نے قرب میں ہے