خطبات محمود (جلد 25) — Page 622
خطبات محمود 622 $1944 کامیابی کے سامان بھی کر دیتا ہے۔لیکن اس میں ایک نئی بات پیدا ہو گئی ہے کہ اس تحریک کے بعد جو درخواستیں آئی ہیں وہ ہمارے مطالبہ سے بہت زیادہ ہیں۔ہمارا مطالبہ تھا سات تراجم کے اخراجات کا اور درخواستیں آئی ہیں بارہ تراجم کے اخراجات کے لیے۔اور ابھی بیرون جات سے چٹھیاں آرہی ہیں کہ وہ اِس چندہ میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔جہاں تک وسیع علاقوں کا تعلق ہے اور جہاں جماعتیں پھیلی ہوئی ہیں وہ علاقے چونکہ سب کے مشورہ کے بغیر کوئی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے۔اس لیے ان درخواستوں میں وہ شامل نہیں۔کیونکہ وہ جلدی مشورہ کر کے اتنے وقت کے اندر اطلاع نہیں دے سکتی تھیں۔یہ درخواستیں صرف ان جماعتوں کی طرف سے ہیں جو اپنی ذمہ داری پر اس بوجھ کو اٹھا سکتی تھیں۔یا افراد کی طرف سے ہیں مثلا ہے چودھری ظفر اللہ خان صاحب اور ان کے بعض دوستوں کی طرف سے، میاں غلام محمد صاحب اختر اور اُن کے دوستوں کی طرف سے لاہور کی جماعت کی طرف سے، کلکتہ کی جماعت کی طرف سے اور میاں محمد صدیق صاحب اور محمد یوسف صاحبان تاجران کلکتہ کی طرف سے، ملک عبد الرحمان صاحب مل اونر قصور کی طرف سے اور سیٹھ عبد اللہ بھائی سکندر آباد کی طرف یہ سب درخواستیں اُن جماعتوں کی ہیں جہاں یا افراد زیادہ ہیں اور وہ اِس ذمہ داری کا بوجھ بغیر دوسری جماعتوں سے مشورہ کرنے کے خود اُٹھا سکتی ہیں یا اُن افراد کی طرف سے ہیں جو صاحب توفیق ہیں اور یہ بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔قادیان کی جماعت کے متعلق مجھے یقین دلایا گیا ہے ؟ کہ ایک ترجمہ کی جگہ وہ دو کا خرچ اپنے ذمہ لے گی اور لجنہ کا بھی جس رنگ میں چندہ ہو رہا ہے اِس رنگ میں دو کا بھی سوال نہیں بلکہ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا چندہ دو سے بھی بہت زیادہ ہو گا۔کیونکہ اس وقت تک لجنہ قادیان کی طرف سے چھ ہزار تین سو روپے کے وعدے آچکے ہیں اور ابھی ہزار بارہ سو روپیہ کے وعدوں کی اور امید ہے۔گو میں نے سارے ہے ہندوستان کی لجنہ کے ذمہ جو ایک ترجمہ کا خرچ لگایا تھا اُس سے زیادہ کے وعدے قادیان سے ہی ہو چکے ہیں اور ابھی باہر کی ساری بنا ئیں باقی ہیں۔اسی طرح قادیان کی جماعت کے علاوہ خطبہ صاف کرتے وقت تک آٹھ ہزار سے زائد کے وعدے ہو چکے ہیں۔