خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 618 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 618

خطبات محمود 618 $1944 مفضل حقیقت ہماری جماعت کے پورے حصہ کے اندر یہ احساس نہیں پایا جاتا کہ وہ باشرح چندہ دے۔میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت کا پچاس فیصدی حصہ ایسا ہے جس پر ہماری آمدنی کا انحصار ہے۔باقی پچاس فیصدی ایسے ہیں جو یا تو بالکل چند و ادا نہیں کرتے یا اگر کرتے ہیں تو شرح سے کم ہے اور بے قاعدہ۔پس اگر بیت المال اس نظام کو مکمل کر کے با قاعدہ اور باشر ح چندہ وصول کرنے کا انتظام کرے تو آمدنی بڑھ سکتی ہے اور جو جماعتیں یا افراد پہلے سے باقاعد ہ اور پوری شرح سے ادا کر رہے ہیں اُن میں بھی قربانی کی روح کو مضبوط کیا جائے۔قربانی کی روح ایمان سے بڑھتی ہے کثرت اسباب سے نہیں بڑھتی۔پس جو قربانی کر رہے ہیں اُن کے اندر ایمان ہے اور جس کا ایمان ہے جتنا جتنا بڑھتا جائے گا اتنا اتنا ہی اُس کے اندر قربانی کامادہ بھی ترقی کرتا جائے گا۔اس کے بعد میں جماعت کو ایک اور بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔طور پر تو میں اِنْشَاءَ اللہ اگلے خطبہ میں بیان کروں گا اس وقت صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ تبلیغی شعبہ کو مکمل کرنے کے لیے ہماری جماعت کے مختلف پیشہ وروں کے ادارے ہوں جن کے ذریعہ تبلیغ کے نظام کو مکمل کیا جائے۔اب ضرورت ہے کہ ہماری جماعت کے تاجروں کی ایک انجمن ہو، صناعوں کی ایک انجمن ہو ، مزدوروں کے کی ایک انجمن ہو، محکمہ تعلیم کے کارکنوں کی انجمن ہو ، وکیلوں کی انجمن ہو ، ڈاکٹروں کی انجمن ہو تا کہ اِس طریق سے یہ تمام ادارے وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَہ 3 کے اصول کے مطابق اپنے اپنے حلقہ میں اپنے اثر ورسوخ کو کام میں لا کر تبلیغ کر سکیں۔وکیل وکالت کے ذریعہ اپنے اثرورسوخ کو وسیع کر کے تبلیغ کا کام کرے، ڈاکٹر اپنی ڈاکٹری کے ذریعہ جہاں جائے اسلام کی تعلیم پھیلانے کا موجب بنے ، تاجر اپنی تجارت ہے کے ذریعہ اپنا اثر ورسوخ بڑھا کر تبلیغ کا میدان پیدا کرے، صناع اپنی کاریگری کے ذریعہ اثر و رسوخ پیدا کر کے تبلیغ کا ذریعہ بنے۔ان سب پیشہ وروں کی انجمنیں ہونی چاہئیں جو اس کام کو چلائیں۔جب تک تاجر اپنی تجارت کو اس رنگ میں بدل نہیں لیتے کہ اُن کی تجارت سے اُنہی کو فائدہ نہ ہو بلکہ اسلام اور احمدیت کی ترقی میں بھی وہ ممید ہو۔جب تک صناع اپنے آپ کو اس رنگ میں نہیں ڈھال لیتے کہ اپنی کاریگری کے ذریعہ تبلیغ کا موجب ہے