خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 613 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 613

1944ء 613 خطبات محمود بھی ستر ہزار روپیہ کے قریب ان کا سالانہ چندہ بن جاتا ہے۔ یہ چندہ صرف ان ملازموں کا بنتا ہے جو کنگز کمیشن حاصل کر دہ ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ایسے ہیں جو وائسرائے کے کمیشن پر فائز ہیں۔ مثلاً صوبیدار جمعدار وغیرہ ہیں۔ پھر ہزاروں کی تعداد میں فوج کے عام ملازم ہیں۔ ان سب کو ملا کر کوئی پونے دولاکھ کی رقم چندہ کی بنتی ہے جو سالانہ صدر انجمن میں آنی چاہیے اور غالباً اس کے قریب آتی ہو گی ( یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ اس قدر آتی بھی ہے یا نہیں)۔ یہ لوگ سوائے اس کے جو مستقل ہیں سارے ایسے ہیں کہ جنگ کے بعد فارغ ہو کر واپس آ جائیں گے اور جو اس وقت پانچ چھ سو روپیہ ماہوار لیتے ہیں۔ ہمارے ملک کی تنخواہوں کے لحاظ سے وہ ساٹھ ستر روپے ماہوار لے سکیں گے۔ اور جو اس وقت سو سو روپیہ ماہوار لے رہے ہیں وہ پچھیں تیس روپے ماہوار لے سکیں گے۔ بشر طیکہ کام مل جائے۔ بہت سارا طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے جسے کام نہیں ملتا۔ تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ بجائے پونے دو لاکھ روپیہ سالانہ آمد کے جو اس وقت براہ راست یا ان کے رشتہ داروں کے ذریعہ ان لوگوں کی طرف سے ہمیں ہوتی ہے زیادہ سے زیادہ تیس چالیس ہزار روپیہ کی آمد رہ جائیگی اور باقی ایک لاکھ چالیس ہزار روپیہ یا ایک لاکھ تیس ہزار روپیہ کی آمد خطرے میں پڑ جائے گی۔ ممکن ہے خدا تعالیٰ ان کے لیے ایسا سامان کر دے کہ وہ اچھی کمائیاں کر سکیں۔ مگر پھر بھی حساب کا طریق یہی ہے کہ حساب کرتے وقت خطرے کو زیادہ سے زیادہ مد نظر رکھا جاتا ہے اور حُسنِ ظنی کو کم ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ جہاں افراد کے متعلق یہ طریق ہے کہ حُسنِ ظنی سے زیادہ سے زیادہ کام لیا جائے وہاں حساب کے معاملات میں یہ طریق ہے کہ حُسنِ ظنی کو نظر انداز کر کے خطرے کے پہلو کو مد نظر رکھا جائے۔ اِسی طرح دوسری آمدنیوں کی طرف ہم دیکھتے ہیں تو جنگ کے بعد وہ بھی بظاہر کم ہو جائیں گی۔ زمینداروں کی آمد اس جنگ میں زیادہ ہے مگر افسوس ہے کہ انہوں نے اس جنگ میں اتنی قربانی نہیں کی جتنی گزشتہ جنگ کے موقع پر کی تھی۔ اس لیے زمینداروں کے لحاظ سے اتنا خطرہ نہیں۔ مگر تاجروں کے لحاظ سے زیادہ خطرہ ہے۔ کیونکہ تاجروں نے گو پورا حصہ نہیں نہیں لیا لیا مگر جتنا لیا ہے وہ پچھلی جنگ کی نسبت سے بہت زیادہ ہے۔ پس اگر تاجروں اور زمینداروں دونوں کو شامل کر لیا جائے تو کل دو تین لاکھ کی آمد خطرے میں پڑ جائے گی۔ اس وقت اگر