خطبات محمود (جلد 25) — Page 612
$1944 612 محمود تو گل خرچ کتب کے ترجمہ اور چھپوائی پر چھ لاکھ چوبیس ہزار ہوتا ہے۔اس میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپیہ قرآن مجید کے تراجم کا بھی شمار کر لیا جائے تو سات لاکھ اٹھاسی ہزار روپیہ کی رقم بنتی ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا تھا مختلف قسم کے ٹریکٹوں اور اشتہارات کے کی بھی ان زبانوں میں ضرورت ہے۔اگر چالیس ہزار روپیہ اشتہارات کا خرچ بھی شامل کر لیا جائے تو یہ آٹھ لاکھ چوبیس ہزار روپیہ کا اندازہ ہو جاتا ہے۔اور اگر مخط و کتابت تاریں اور دوسرے فوری اخراجات کو شامل کر لیا جائے تو یوں سمجھنا چاہیے کہ اس سارے کام کے لیے ساڑھے آٹھ لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے۔اتنی رقم ہمارے پاس ہونی چاہیے تاکہ ہم کام کی ابتدا ای کر سکیں۔جس طرح فوجوں کے لیے میگزین مہیا کیا جاتا ہے اسی طرح ہمارے لیے بھی دنیا میں تبلیغ کی ابتدا کرنے کے لیے اس میگزین کی ضرورت ہے۔پس ہمیں یہ روپیہ مہیا کر نا ہو گا ہی تا کہ جنگ کے خاتمہ پر ہم تیار ہوں اور مبلغین کو باہر بھیج سکیں۔اس کے علاوہ جماعت کے نظام کو مکمل کرنے اور مضبوط بنانے کے لیے مجلس شوری نی کے موقع پر میں نے تحریک کی تھی کہ انجمن کا کام بڑھ رہا ہے۔اس کے لیے بہت سے زائد عملہ کی اب ضرورت ہے۔چنانچہ بہت سے نائب ناظر اور معاون ناظر اور کلرکوں کی جگہ بجٹ میں رکھی گئی تھی۔اس بڑھے ہوئے خرچ کے چلانے کے لیے بہت سے زائد روپیہ کی بھی ضرورت ہو گی اور تنگی کے زمانوں کے لیے ایک بڑے ریزرو فنڈ کی بھی۔اس وقت جنگ کی وجہ سے ہمارے بہت سے آدمی اچھے کاموں اور اچھی تنخواہوں پر لگے ہوئے ہیں۔پس اگر یہ کام اس وقت نہ ہوا تو جنگ کے خاتمہ پر اس کا ہونا بہت مشکل ہو گا۔جنگ کے بعد اگر جماعت کے چندہ کا یہی معیار قائم رہا جو اس وقت ہے تو یقیناً یہ بات خطر ناک ہو گی کیونکہ جنگ کے بعد بہت سے لوگ جو اس وقت چندہ دے رہے ہیں ملازمتوں سے برخواست کر دیے جائیں گے۔مثلاً اس وقت فوج میں ہمارے دو سو کے قریب آدمی کنگز کمیشن حاصل کیے ہوئے ہیں جو اِس وقت پانچ سو سے آٹھ سو تک تنخواہیں لے رہے ہیں۔اگر ہم دو سو کی بجائے ایسے ڈیڑھ سو آدمی شمار کر لیں اور ہر ایک کی تنخواہ اوسطاً چھ سو روپیہ سمجھ لیں تو یہ نوے ہزار روپیہ ماہوار کی آمدنی بنتی ہے۔اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ ان کی وصایا نہیں ہیں اور عام چندے دیتے ہیں تب ہے