خطبات محمود (جلد 25) — Page 604
$1944 604 محمود ٹریکٹ نہیں سکتے۔لیکن عیسائی ممالک میں اس قسم کے ٹریکٹ بک بھی جاتے ہیں۔مبلغ کو اجازت ہو کہ وہ ان ٹریکٹوں اور اشتہاروں کو جس قدر چاہے مفت تقسیم کرے اور جس قدر سکیں بیچ دے۔پس اس قسم کے ٹریکٹ اور اشتہار بھی کثرت سے ان نو زبانوں میں تیار۔کیے جائیں۔کثرت سے چھپوانے پر کم خرچ ہوتا ہے۔اگر ہم اوسطانی اشتہار آٹھ صفحہ کا تو سمجھیں اور چھپوائی کا اندازہ فی صفحہ دو روپے فی ہزار لگا لیں تو سولہ سو روپیہ میں آٹھ صفحے کا ہے ایک لاکھ اشتہار ایک زبان میں چھپ سکتا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ نو زبانوں میں ایک ایک لاکھ اشتہار چھپوانے پر ساڑھے چودہ ہزار روپیہ خرچ آئے گا۔ممکن ہے یہ خرچ اور بھی کم ہو کر دس ہزار تک آجائے۔اور چالیس ہزار روپیہ میں ہم ہر ایک زبان کا چار چار لاکھ اشتہار شائع کر سکیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ سال بھر میں اتنے اشتہارات شائع کر کے ہم ایک سال میں ہے چھتیں لاکھ انسانوں تک اپنا پیغام پہنچا دیں گے۔بعض دفعہ ایک ایک اشتہار کو کئی کئی آدمی پڑھتے ہیں۔اس طرح یہ تعداد اور بھی بڑھ جائے گی۔لیکن اگر سال میں چھتیس لاکھ انسانوں تک بھی ہمارا پیغام پہنچ جائے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ ایک ایک روپیہ میں نوے توے یا سوسو آدمیوں تک ہمارا پیغام پہنچ جائے گا۔گویا اتنی تبلیغ پر فی آدمی ایک پیسہ بھی خرچ نہ آئے گا۔پس یہ تین چیزیں ضروری ہیں۔اول آٹھ زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ ، دوسرے نو زبانوں میں بارہ کتابوں کا سیٹ، تیسرے نو زبانوں میں مختلف چھوٹے چھوٹے ٹریکٹ اور اشتہارات۔شروع شروع میں ٹریکٹ تھوڑے تھوڑے چھپوا لیے جائیں اور پھر آہستہ آہستہ ان کی اشاعت کو بڑھاتے چلے جائیں۔جب اشاعت بڑھ جائے گی تو یہ ٹریکٹ اپنا خرچ خود نکالنے لگ جائیں گے۔چھوٹے چھوٹے ٹریکٹ بڑی کتاب کی نسبت زیادہ بکتے ہیں۔اگر ایک ٹریکٹ ایک پیسہ میں بھی فروخت ہو جائے تو کافی خرچ نکل سکتا ہے۔مگر پیسہ کا رواج صرف ہمارے ملک میں ہے انگریزی ممالک میں کم از کم سنکہ ایک آنہ ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک ایک ٹریکٹ ایک ایک آنہ میں فروخت کیا جائے تو ہزاروں کی آمدنی ہو سکتی ہے اور اس آمدنی سے اور اشتہارات چھپوائے جاسکتے ہیں۔پس یہ ایک ایسی سکیم ہے جو تبلیغ کو کامیاب بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ایک