خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 596 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 596

$1944 596 محمود مجھی جاتی ہے اور اس زبان کے ذریعہ کئی معاملات طے کیے جاتے ہیں۔یورپ کے ملکی تعلقات اور معاملات میں بھی یہ زبان استعمال ہوتی ہے۔اس کے علاوہ انگریزوں کے بعد فرانس ہی ایک ایسا ملک ہے جس کا دوسرے کئی ممالک پر اثر ہے اور اس کی نو آبادیات کثرت سے باہر پھیلی ہوئی ہیں۔شمالی افریقہ اور مغربی افریقہ کا ایک حصہ اس کی نو آبادیات میں شامل ہے۔پھر بحر ہند کے کئی جزائر پر فرانس کا قبضہ ہے۔چین تک اس کی نو آبادیات پھیلی ہوئی ہے ہیں۔امریکہ کے پاس بھی بعض جزائر پر فرانس کا قبضہ ہے۔پس پانچویں وسیع اثر رکھنے والی زبان فرانسیسی ہے۔اس قسم کی چھٹی زبان اطالوی ہے۔اس زبان کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ یورپ کی علمی اصطلاحات لاطینی سے تیار کی جاتی ہیں اور لاطینی زبان ماں ہے اطالوی زبان کی بیٹی اپنی ماں سے الگ نہیں ہوتی بلکہ ماں کا اثر ضرور اپنے اندر رکھتی ہے۔اس لیے لاطینی اصطلاحات کے لیے اطالوی زبان کا جاننا ضروری ہے۔اسی طرح مسیحیت کا مرکز ہونے کی وجہ سے پادریوں کے ذریعہ سے اطالوی زبان ہر ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔مزید بر آں اطالوی نسل بڑی جلدی جلدی بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے کئی کروڑ اطالوی نسل کے آدمی امریکہ میں جابسے ہیں۔اسی طرح اٹلی کی نو آبادیات جن پر جنگ سے پہلے اٹلی کا قبضہ تھا اُن میں بھی اس زبان کو سمجھا جاتا ہے۔پھر مصر اور مشرق بعید کے علاقوں پر بھی اٹلی زبان کا اثر ہے کیونکہ وہاں بھی اٹلی کے لوگ تجارتوں اور دوسرے کاموں کی وجہ سے بہت پھیلے ہوئے ہیں۔پس یہ چھٹی زبان ہے جو نہایت اہمیت رکھنے والی ہے اور مختلف ممالک میں اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ساتویں زبان ڈچ ہے جو ہالینڈ کی زبان ہے۔سماٹرا، جاواو غیرہ کے جزائر جن میں کئی کروڑ کی مسلمان آبادی ہے یہ لوگ ڈچ حکومت کے ماتحت ہیں ان میں تبلیغ کرنے کے لیے ڈچ زبان کا جاننا ضروری ہے۔ان جزائر میں جتنے تعلیم یافتہ لوگ ہیں وہ سب ڈچ زبان جانتے ہیں اور اس زبان کو سماٹرا، جاوا و غیرہ میں وہی اہمیت حاصل ہے جو ہندوستان میں انگریزی کو حاصل ہے۔ہندوستان میں کئی تعلیم یافتہ لوگ ایسے ہیں جن کو اگر اردو رسالہ پڑھنے کو دیا جائے تو کہیں گے اگر کوئی انگریزی رسالہ ہو تو دیجیے۔اپنی زبان اردو ہے مگر ما نگیں گے انگریزی ہے