خطبات محمود (جلد 25) — Page 592
1944ء 592 خطبات محمود آئے ہیں جن سے مصنوعی روشنی پیدا کر کے حملے کیے جاتے ہیں۔ مگر یہ مصنوعی روشنی ہر رات استعمال نہیں کی جاسکتی اور نہ ہر جگہ استعمال کی جاسکتی ہے۔ اور باوجود ان ذرائع کے رات کو پھر بھی ہر ایک فریق غنیمت سمجھتا ہے تاکہ فریقین آرام کر سکیں اور اپنی اپنی طاقتوں کو بحال کر لیں۔ خاص خاص ایام میں اور خاص خاص حملوں کے موقع پر جبکہ ایک فریق لمبی تیاری کے بعد حملہ آور ہوتا ہے اُس وقت بے شک رات کو بھی جنگ جاری رہتی ہے ورنہ عام طور پر صرف دن کو ہی لڑائی لڑی جاتی ہے۔ رات کے وقت تھوڑے تھوڑے سپاہی خبر رسانی کے طور پر کام کرتے ہیں تاکہ اگلے پچھلے حالات کا علم ہو تا رہے۔ یا بعض دفعہ چھا پہ بھی مارا جاتا ہے مگر فوج کے بیشتر حصہ کو آرام کا موقع دیا جاتا ہے تا کہ وہ اپنی طاقت کو بحال کر کے دن کی لڑائی کے لیے تیار ہو جائے۔ اگر اللہ تعالیٰ رات کو پیدا نہ فرماتا تو بعض مجنون دشمن دن اور رات لڑائی لڑائی جاری رکھ کر خود بھی زیادہ تکان اور زیادہ کوفت کر لیتے اور مد مقابل کو بھی زیادہ تکان اور زیادہ کوفت کر ا دیتے۔ جس طرح یہ اسلحہ کی جنگ میں ہوتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ تبلیغی جنگوں میں ما بھی وقفوں کے سامان پیدا فرما دیتا ہے۔ مثلاً یہی جنگ عظیم جو ہو رہی ہے یہ 1939ء میں شروع ہوئی تھی اور اس وقت تک اس کو شروع ہوئے پانچ سال گزر گئے ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے تبلیغ کے رستے رُکے ہوئے ہیں۔ سوائے لڑائی کے کاموں کے عام سفر کے لیے جہاز بند ہیں۔ حکومتیں پاسپورٹ دینے میں بخل سے کام لیتی ہیں کیونکہ وہ ڈرتی ہیں کہ ہمارے ملک کا آدمی باہر جاکر کہیں نقصان کا موجب نہ ہو۔ اس وجہ سے ہماری تبلیغ پانچ سال سے بیرونی ممالک میں زکی پڑی ہے۔ بعض جگہ جہاں جنگ سے پہلے کے مبلغ موجود ہیں، وہ پھیل نہیں نہیں سکتے اور لٹریچر نہ پہنچا سکنے کی وجہ سے ہم بھی اُن کی زیادہ مدد نہیں کر سکتے ۔ کیونکہ پارسلوں کا جانا آنا بند ہے۔ بہت ہی تھوڑی تعداد میں پارسل جاسکتے ہیں۔ گو یا خدا تعالیٰ نے پانچ سال کی رات ہم پر نازل فرمائی ہے تاکہ تحریک جدید کی تیاری میں موقع مل سکے۔ اگر لڑائی کی وجہ سے یہ وقفہ پیدا نہ ہوتا تو جماعت کے بعض ایسے احباب جو نچلا بیٹھنا نہیں جانتے شور مچانا شروع کر دیتے کہ تحریک جدید کو شروع ہوئے اتنے سال گزر گئے اور کام شروع نہیں ہوا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کا منہ بند کرنے کے لیے ایسا سلسلہ شروع کر دیا کہ وہ لوگ بھی کہتے ہیں کہ ہاں جی ہے