خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 59

خطبات محمود 59 $1944 اس خدائی الہام نے وہ بات جو ہمیشہ میرے سامنے پیش کی جاتی تھی اور جس کا جواب دینے سے ہمیشہ میری طبیعت انقباض محسوس کیا کرتی تھی آج میرے لیے بالکل حل کر دی ہے۔یعنی اس الہام الہی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ پیشگوئی جو مصلح موعود کے متعلق تھی خدا تعالی ہے نے میری ہی ذات کے لیے مقدر کی ہوئی تھی۔لوگوں نے کہا اور بار بار کہا کہ آپ کی ان پیشگوئیوں کے بارہ میں کیا رائے ہے مگر میری یہ حالت تھی کہ میں نے کبھی سنجیدگی سے ان می پیشگوئیوں کو پڑھنے کی بھی کوشش نہیں کی تھی۔اس خیال سے کہ میرا نفس مجھے کوئی دھوکا من نہ دے اور میں اپنے متعلق کوئی ایسا خیال نہ کر لوں جو واقعہ کے خلاف ہو۔حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ مجھے ایک خط دیا اور فرمایا میاں ! یہ خط ہے جو تمہاری پیدائش کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے لکھا۔اس خط کو تشخیز الا ذبان میں چھاپ دو۔یہ بڑے کام کی چیز ہے۔میں نے اُس وقت اُن کے ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہ خط لے لیا اور ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اُسے تشخیز میں شائع کرا دیا۔مگر ہم اللہ بہتر جانتا ہے میں نے اُس وقت بھی اس خط کو غور سے نہیں پڑھا۔صرف سرسری طور پر پڑھا اور اشاعت کے لیے دے دیا۔لوگوں نے اُس وقت بھی کئی قسم کی باتیں کیں مگر میں خاموش رہا۔اس کے بعد بھی بار بار یہ سوال میرے سامنے لایا گیا مگر ہمیشہ میں نے یہی جواب دیا کہ اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ جس شخص کے متعلق یہ خبریں ہیں اُسے بتایا بھی جائے کہ یہ تمہارے متعلق خبریں ہیں یا ہر گز یہ ضروری نہیں کہ جس شخص کے متعلق یہ پیشگوئیاں ہیں وہ دعوی بھی کرے کہ میں ان پیشگوئیوں کا مصداق ہوں۔بلکہ مثال کے طور پر میں نے بعض دفعہ بیان کیا ہے کہ ریل کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی۔7 مانے والے مانتے ہیں کہ پیشگوئی پوری ہو گئی کیونکہ وہ واقعات کو اپنی ہی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔اب یہ ضروری نہیں کہ ریل خود دعوی بھی کرے کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فلاں پیشگوئی کی مصداق ہوں۔ہماری جماعت کے دوستوں نے یہ اور اسی قسم کی دوسری پیشگوئیاں بارہا میرے سامنے رکھیں اور اصرار کیا کہ میں ان کا اپنے آپ کو مصداق ظاہر کروں۔مگر میں نے انہیں ہمیشہ یہی کہا کہ پیشگوئی اپنے مے