خطبات محمود (جلد 25) — Page 583
خطبات محمود 583 $1944 نماز ایک ایسی عبادت ہے جس کا میرے اور میرے خدا کے درمیان واسطہ ہے اس میں کوئی دوسرا کیوں دخل دے رہا ہے۔اگر نماز جیسی چیز پر لوگ چڑ جاتے اور غصہ میں آ جاتے ہیں تو وہ ہے ملکی نظام اپنے لیے کس طرح برداشت کر سکتے ہیں جس میں ان کا کوئی دخل نہ ہو، جس نظام کو جاری کرنے میں اُن کا کوئی ہاتھ نہ ہو اور جس نظام کے ساتھ اُن کی رضامندی شامل نہ ہو بلکہ دوسروں کا یہ اختیار ہو کہ وہ آئیں اور فیصلہ کریں۔ہاں جو نظام پہلے سے جاری ہو اور جس میں انسان ایک دفعہ شامل ہو چکے ہوں اُس نظام کی پابندی کرنا انسان کے لیے ضروری ہوتا ہے اور اُس کا کوئی حق نہیں ہوتا کہ وہ اُس کے خلاف آواز بلند کرے۔مثلاً ہندوستان انگریزوں کے ماتحت ہے۔یہ بحث کرنا کہ ہندوستان پر انگریزوں نے کیوں قبضہ کیا، اُن کا کیا حق تھا کہ وہ ہندوستانیوں پر حکومت کرتے بالکل فضول اور لغو ہے۔ہندوستان بہر حال انگریزوں کے یہ ماتحت ہے۔یہ الگ سوال ہے کہ وہ انگریزوں کے ماتحت کس طرح آیا اس میں ہندوستانیوں کا اپنا قصور تھایا انگریزوں کا۔بہر حال ہندوستان انگریزوں کے ماتحت ہے۔ہندوستان اُس نظام کو قبول کر چکا ہے جو انگریزی نظام ہے اور جب ہندوستان انگریزوں کے ماتحت ہے تو لازماً انگریزوں کو ہندوستان کے متعلق کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا پڑے گا۔ہندوستانیوں کو یہ حق حاصل ہیں نہیں کہ وہ کہیں کہ انگریزوں نے اُن کے ملک پر کیوں قبضہ کیا یا اُن کے حقوق کا فیصلہ کرنے کا انگریز کیا اختیار رکھتے ہیں۔مگر آزاد حکومتیں یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتیں کہ ان پر حکمرانی جتائی جائے اور اُن کے حقوق کے تصفیہ کے لیے یہ قومیں آگے بڑھیں اور ہمیشہ اُن کو اپنے ماتحت رکھنے کی تدابیر عمل میں لائیں۔آزاد قوموں پر اُن قوانین کا جاری کرنا جو ماتحت اور مفتوح قوموں پر جاری کیے جاتے ہیں فتنہ و فساد کی نئے سرے سے بنیاد رکھنا ہے۔اور اگر موجودہ جنگ کے بعد اس بہت بڑے نقص کو دور کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو لازماً ایک نئی من لڑائی کی بنیاد قائم ہو جائے گی۔اور اگر یہ قومیں خود مقابلہ کے لیے نہیں اٹھ سکیں گی تو می دوسروں کو لڑائی کے لیے اکسائیں گی۔دوسروں کو جنگ کے لیے بر انگیختہ کریں گی اور اس طرح ایک نئی جنگ کا دروازہ کھول کر اپنے بعضوں اور کینوں کو نکالنے کی کوشش کریں گی۔دنیات میں مظلوم کا یہی طریق ہوا کرتا ہے کہ جب وہ دیکھتا ہے میں خود انتقام لینے سے قاصر ہوں،