خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 570

1944ء 570 خطبات محمود اور بھلائی اس کے مد نظر نہیں تھی کیونکہ وہ سمجھتی تھی ہم خواہ جیئیں یا مریں حکومت کو ہمارے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اچھوت اقوام سے آرین اقوام نے ذلت کا سلوک روا رکھا، اُن کے حقوق کو تلف کیا اور ان کی ترقی کو روک دیا۔ مگر اسی وجہ سے خدانے اور قوموں کو کھڑا کر دیا جنہوں نے مقابلہ کیا۔ اس طرح وہی قوم جس نے اچھوتوں کو ذلیل کیا تھا اُسے خود دوسروں کا محکوم بننا پڑا۔ اسی طرح بالکل ممکن ہے کہ اگر فاتح مغربی اقوام جرمنی اور جاپان سے اچھوتوں والا سلوک کریں تو گو جر منی اور جاپان سے یہ قو میں ذلت نہ اٹھائیں مگر اس ظلم کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بعض اور قو میں کھڑی کر دے جن کا مقابلہ ان کے لیے آسان نہ ہو۔ پس دنیا پھر خدانخواستہ ایک غلطی کرنے والی ہے۔ پھر خدانخواستہ ایک ظلم کا بیج بونے والی ہے۔ پھر ایک ایسی حرکت کرنے والی ہے جس کا نتیجہ کبھی اچھا پیدا نہیں ہو سکتا۔ اور ہمارا فرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اس غلطی سے حاکم اقوام کو بچائے۔ اور دوسری طرف ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا کو اس غلطی سے آگاہ کریں اور تبلیغ اسلام کے متعلق زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ اس جنگ کے بعد کم سے کم دو ملک ایسے تیار ہو جائیں گے جو ہماری باتوں پر سنجیدگی اور متانت کے ساتھ غور کریں گے۔ یعنی جرمنی اور جاپان۔ یہ دو ملک ایسے ہیں جو ہماری باتیں سننے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ خصوصاً جرمنی ایک ایسا ملک ہے جو اس لحاظ سے خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ ہم ان لوگوں کے پاس پہنچیں گے اور انہیں بتائیں گے کہ دیکھو ! عیسائیت کتنی ناکام رہی کہ عیسائیت کی قریباً دو ہزار سالہ غلامی کے بعد بھی تم غلام کے غلام رہے اور غلام بھی ایسے جن کی مثال سوائے پرانے زمانہ کے اور کہیں نظر نہیں آسکتی۔ اس وقت ان کے دل اسلام کی طرف راغب ہوں گے اور ان کے اندر یہ احساس پیدا ہو گا کہ آؤ ہم عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام پر غور کریں اور دیکھیں کہ اس نے ہمارے دکھوں کا کیا علاج تجویز کیا ہوا ہے۔ پس وہ وقت آنے والا ہے جب جرمنی اور جاپان دونوں کے سامنے ہمیں عیسائیت کی ناکامی اور اسلامی اصول کی برتری کو نمایاں طور پر پیش کرنا پڑے گا۔ اسی طرح انگلستان اور امریکہ اور روس کے سمجھدار طبقہ کو ( اور کوئی ملک ایسے سمجھدار طبقہ