خطبات محمود (جلد 25) — Page 566
$1944 566 خطبات " محمود اور امریکہ کے بعض اکابرین کی طرف سے یہ آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ جنگ کے بعد جرمنی اور جاپان دونوں کے لیے بعض پیشے مقرر کر دیے جائیں گے اور فیصلہ کر دیا جائے گا کہ وہ ان مخصوص پیشوں کے علاوہ اور کوئی پیشہ اختیار نہیں کر سکتے۔یہ چیزیں جب ظاہر ہوتی ہیں اُس وقت طبائع قدرتی طور پر فیصلہ کی طرف مائل ہوتی ہیں اور وہ اس نتیجہ پر پہنچتی ہیں کہ موجودہ نظام کے علاوہ کوئی اور نظام دنیا میں رائج ہونا چاہیے جو کمزور کی حق تلفی نہ کرے اور طاقتور کو مین ناجائز حقوق نہ دے۔پس اگر جنگ کے بعد مفتوح اقوام سے اُسی قسم کا وحشیانہ سلوک کیا گیا جس قسم کا وحشیانہ سلوک اچھوت اقوام سے کیا گیا تھا تو یہ لازمی بات ہے کہ یورپ میں بھی اور ہے امریکہ میں بھی اور جاپان میں بھی اور جرمنی میں بھی دنیا کے موجودہ نظام کے خلاف آوازیں اٹھنی شروع ہو جائیں گی، طبائع میں ایک ہیجان پیدا ہو جائے گا اور لوگوں کے اندر یہ احساس ہے پیدا ہو ناشروع ہو گا کہ موجودہ نظام تسلی بخش نہیں۔اور وہی وقت ہو گا جب گرم گرم لوہے پر ا چوٹ لگا کر اُسے اسلام کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق ڈھالا جاسکے گا۔دیکھو! قرآن کریم نے لیگ آف نیشنز کے بعض اصول بیان کیے ہیں اور وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ جب تک ان اصول پر لیگ آف نیشنز کی بنیاد نہیں رکھی جائے گی میں اُس وقت تک دنیا میں کبھی امن قائم نہیں ہو سکے گا۔میں نے 1924ء میں اپنی کتاب " احمدیت یعنی حقیقی اسلام" میں ان اصول کو قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں بیان کیا تھا۔اسی طرح جب میں ولایت گیا تو وہاں مختلف لیکچروں میں نہایت وضاحت اور تفصیل کے ساتھ میں نے ان اصول کا ذکر کیا۔اس کے بعد 1935ء میں جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے بچے اپنے ایک لیکچر میں جو سیاسیات عالم کے متعلق تھا اس امر کو پھر بڑی تفصیل سے بیان کیا تھا اور بتایا تھا کہ جب تک قرآنی اصول پر لیگ آف نیشنز کی بنیاد نہیں رکھی جائے گی اس وقت تک میں د نیا بین الا قوامی جھگڑوں سے کبھی امن حاصل نہیں کر سکتی۔یہ تمام اصول میری کتاب میں چھپے ہوئے ہیں اور دنیا دیکھ سکتی ہے کہ وہ کیسے پختہ ، کیسے شاندار اور کیسے زبر دست اصول ہیں۔آج لیگ آف نیشنز اگر اپنے مقصد میں ناکام ہوتی ہے تو اسی وجہ سے کہ اُن اصول کو اس نے مچی اپنے نظام میں شامل نہیں کیا تھا۔انہی اصول میں سے ایک اصل میں نے یہ بیان کیا تھا کہ یہ