خطبات محمود (جلد 25) — Page 537
1944ء 537 33 خطبات محمود دنیا پر واضح کر دو کہ چلو! ہم پاگل تو پاگل ہی سہی فرمودہ 22 ستمبر 1944ء بمقام ڈلہوزی) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: " مختلف حالات کے لحاظ سے انسانوں کی محنتیں اور کوششیں بدلتی چلی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جو حواس پیدا فرمائے ہیں اُن میں سے ایک حس موازنہ کی بھی ہے۔ انسانی جسم میں خدا تعالیٰ نے ایک مادہ یہ بھی رکھا ہے کہ جب وہ کوئی کام کرنے لگتا ہے تو اُس کے دماغ کے ایک خاص حصہ میں اُس کام کا ایک وزن قرار دیا جاتا ہے۔ اُس وزن کے مطابق جسم کو زور لگانے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ اور جب اُس کے دماغ کا فیصلہ اُس چیز کے وزن کے مطابق ہو جاتا ہے تو وہ کام ہو جاتا ہے اور جب اُس کے دماغ کا فیصلہ اُس چیز کے وزن کے مطابق نہیں ہوتا تو وہ کام نہیں ہوتا۔ یہ حس ایسی ہے جس کی طرف بہت کم لوگوں نے توجہ کی ہے بلکہ دنیا میں اس کا احساس پیدا ہی اِس قریب زمانہ میں ہوا ہے۔ پہلے صرف حواس خمسہ کہلاتے تھے۔ حالانکہ حواس پانچ نہیں بلکہ زیادہ ہیں۔ موجودہ تحقیقات کی رُو سے نو حسیں ہیں۔ ممکن ہے اور بھی ہوں مگر اس وقت تک نو ثابت ہو چکی ہیں۔ اِن میں سے ایک جس موازنہ کی ہے یعنی جس کے ساتھ کسی کام یا کسی چیز کا دماغ میں وزن کیا جاتا ہے۔