خطبات محمود (جلد 25) — Page 527
1944ء 527 خطبات محمود ہے کے لیے روزوں کا مہینہ قرار دے کر اِس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ خدا کے کلام کے نازل ہونے کے بعد انسانی زندگی کا عام دستورالعمل قائم نہیں رہ سکتا۔ کبھی بھی کوئی پیغام الٰہی دنیا میں نہیں آیا جس کے نازل ہونے کے بعد انسانی زندگیوں کا دستور اور قاعدہ اُسی طرح قائم رہا ہو جس طرح کہ اُس پیغام الہی کے نازل ہونے سے پہلے تھا۔ جس طرح روزوں کے مہینہ میں انسان کو جائز ضرورتوں اور جائز چیزوں کو بعض وقتوں میں ترک کرنا پڑتا ہے اسی طرح انبیاء کی بعثت کے ایام میں اُن پر ایمان لانے والوں کو جائز رزق سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ کچھ تو دشمن کی کارروائیوں کی وجہ سے اور کچھ خود نظام سلسلہ کی پابندی کی وجہ سے۔ کچھ تو دشمن ایمان لانے والوں کا بائیکاٹ کر کے اور اُن کی تجارتوں کو نقصان پہنچا کر اُن کے جائز اموال سے اُن کو محروم کر دیتا ہے اور اُن پر قسم قسم کے مظالم توڑ کر اُن کی زندگی کے دستور کو تہہ وبالا کر دیتا ہے اور کچھ نظام سلسلہ کے ماتحت جہاد کے لیے، اشاعت دین کے لیے، تبلیغ کے لیے اور تعلیم کے لیے اُن پر چندے لگا دیے جاتے ہیں۔ غرض دو طرف سے ان کے اموال کی ٹوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ خدا کی طرف سے بطور ٹیکس کے اور دشمن کی طرف سے بطور تغذیب کے۔ گویا وہ زمانہ ان کے لیے روزوں کا زمانہ ہوتا ہے۔ رمضان کے روزے تو سال میں ایک مہینہ ہوتے ہیں مگر وہ ساری عمر ہی روزے رکھتے ہیں۔ اور جس طرح روزوں کے مہینہ میں جائز چیزوں کو بعض وقتوں میں چھوڑنا پڑتا ہے اسی طرح انبیاء کی بعثت کے ایام میں جائز چیزوں اور جائز ضرورتوں اور جائز خواہشوں کو یا تو خدا کے دین کی خاطر اور یا دشمن کی تعذیب کے ماتحت چھوڑنا پڑتا ہے۔ ہمارے ملک کا محاورہ ہے کہ اتنی تکلیف پہنچی کہ " نیند حرام ہو گئی"۔ روزوں میں بھی نیند حرام ہو جاتی ہے ، کچھ تو سحری کے وقت کھانا پکانے کے لیے اُٹھنا پڑتا ہے اور کچھ تہجد اور دعا کے لیے۔ جس کی وجہ سے نیند کا ایک حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح انبیاء کی بعثت کے زمانہ میں اُن پر ایمان لانے والوں پر قسم قسم کے مصائب کی وجہ سے نیند حرام ہو جاتی ہے۔ گویا اُن کو ساری عمر روزوں کی زندگی میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ جس طرح رمضان میں تہجد اور دعاؤں پر زور دیا جاتا ہے اسی طرح انبیاء کے زمانہ میں مومنوں کی جماعت کو خصوصیت سے دعائیں کرنی پڑتی ہیں کیونکہ جو