خطبات محمود (جلد 25) — Page 46
خطبات محمود 46 $1944 صحابہ کی سی جماعتیں پیدا نہیں کیں۔انہوں نے بے شک کتابیں لکھ دیں، علوم کے دروازے کھول دیئے، شیطان کے حملوں کا رڈ کر دیا لیکن صحابہ جیسی کام کرنے والی کوئی جماعت پیدا نہ کر سکے۔یہ کام اسی صورت میں ہو سکتا تھا جب تسلسل قائم ہوتا اور زنجیر نبوت سلامت ہوتی۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد زنجیر نبوت کو ٹوٹنے نہ دیا جاتا، پیچھے آنے والے پہلوں سے علوم حاصل کرتے اور وہ ان علوم کو اپنی آئندہ نسلوں تک پہنچادیتے تو گو صحابہ سے کم درجہ کی جماعتیں پیدا ہو تیں مگر بہر حال وہ جماعتی طور پر صحابہ کے رنگ میں رنگین ہو تیں اور ہر ملک اور ہر علاقہ میں وہ عوام کی بہتری کا ذریعہ بن جاتیں۔قوم میں سے کسی خاص شخص کا بڑا ہو جانا یا چند اشخاص کا کوئی اعلیٰ اعزاز حاصل کر لینا زیادہ اہم بات نہیں ہوا کرتی۔یورپ میں ہزاروں لاکھوں ایسے لوگ ہیں جن کی آمدنی کلکتہ اور بمبئی کے بعض تاجروں سے بہت کم ہے۔انگلستان کا ایک کثیر حصہ کلکتہ اور بمبئی کے بعض تاجروں سے کم مالدار ہے۔لیکن باوجود اس کے ہمارا ملک انگریزوں کی دولت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اس لیے کہ وہاں عوام اچھی حالت میں ہیں اور یہاں صرف چند کروڑ پتی ہیں۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تمام مسلمان اونچے مقام پر تھے لیکن حضرت ولی اللہ شاہ صاحب دہلوی کے زمانہ میں اگر مسلمان آسمان پر بھی چڑھ گیا تو کیا ہو ا، باقی لوگ تو غلاظت کے ڈھیروں پر ہی کھڑے تھے۔پس سوال یہ ہے کہ حضرت سید احمد صاحب سرہندیؒ، حضرت ولی اللہ شاہ صاحب دہلویؒ ، حضرت معین الدین صاحب چشتی اور سید عبد القادر صاحب جیلانی کے زمانہ میں کتنے لوگ تھے جن کے دلوں میں انہوں نے تغیر پیدا کیا؟ کتنے لوگ تھے جنہیں انہوں نے زمینی سے آسمانی بنا دیا؟ کتنے لوگ تھے جو ان کے ذریعہ اسلام کی خدمت کے لیے تیار ہوئے؟ بے شک کچھ لوگ انہوں نے ایسے بھی تیار کیے جو اپنے دلوں میں اسلام کا در درکھتے تھے ، جو اسلام کی اشاعت کے لیے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لیے تیار رہتے تھے لیکن بہر حال یہ چند افراد تھے۔مگر نبوت کا یہ زمانہ وہ ہوتا ہے جو چند لوگوں کے قلوب میں نہیں ہزاروں لاکھوں قلوب میں تغیر پیدا کر دیا می کرتا ہے۔پس اگر اس کڑی کو ٹوٹنے نہ دیا جائے تو عوام میں سے بیشتر وہی روح اپنے اندر رکھنے والے ہوں گے جو زمانہ نبوت میں مسلمانوں کے اندر پائی جاتی ہے لیکن جب وہ کڑی ہے