خطبات محمود (جلد 25) — Page 456
خطبات محمود 456 1944ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں اور ہم ہی وہ لوگ ہیں جو اپنے تجربہ سے اس کو صحیح سمجھ سکتے ہیں کہ بعد از خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر این بود بخدا سخت کا فرم2 میری قوم کے لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو کافر ہے کافر ہے ۔ بعد از خدا بعشق محمد مخمرم فرماتے ہیں میرا مذہب تو یہ ہے کہ میں خدا کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اپنے ایمان کا جزو سمجھتا ہوں اور آپ سے زیادہ عشق میں اور کسی انسان سے نہیں رکھتا گر کفر این بود بخدا سخت کا فرم اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا کفر ہوتا ہے اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق رکھنا کفر ہوتا ہے تو پھر جتنا چاہو مجھے کافر کہہ لو۔ تم جتنا کافر مجھے کہو ان معنوں میں میں اس سے بھی زیادہ کافر ہوں۔ مجھے یاد ہے گو اُس وقت یہ بات مجھے بڑی معلوم ہوئی لیکن بعد میں میں نے سمجھا کہ یہ بات نیک نیتی سے ہی کہی گئی تھی اور وہ یہ کہ جب گورنمنٹ نے مذہب کے متعلق یہ قانون پاس کیا کہ کسی مذہب کے لیڈر اور اُس کے بانی کے خلاف کوئی ایسا سخت کلمہ استعمال نہ کیا جائے جو اُس مذہب کے پیرؤوں کے لیے دل شکنی کا باعث ہو اور جس سے تنافر اور تباغض پیدا ہو سکتا ہو۔ اگر کوئی شخص کسی کسی مذہب کے متعلق سخت الفاظ استعمال کرے گا یا اُس مذہب کے بانی کے خلاف ایسے الفاظ استعمال کرے گا جو دل آزار ہوں یا قوم میں تفرقہ پیدا کرنے کا باعث ہوں تو اُسے گرفتار کر لیا جائے گا۔ اُن دنوں مرزا سلطان احمد صاحب ایک دفعہ رخصت پر قادیان آئے۔ مرزا سلطان احمد صاحب اُس وقت تک احمدی نہیں ہوئے تھے اور گو ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عقیدت تھی مگر بیعت میں شامل نہیں تھے۔ بعد میں تو وہ اپنی عقیدت میں بہت ترقی کر گئے اور خدا تعالیٰ نے انہیں بیعت میں شامل ہونے کی توفیق بھی عطا فرمادی۔ مگر اُس وقت تک وہ وہ احمدی