خطبات محمود (جلد 25) — Page 445
1944ء 445 خطبات محمود اور تھوڑے ہی عرصہ میں کچھ کا کچھ بن گئی۔ چنانچہ میں نے اپنی آنکھوں سے کیٹا کو مبز (CATACOMBS) کو دیکھا ہے اور اُس وقت کی عیسائیت مشاہدہ کی ہے۔ ایک پادری ہمارے ساتھ تھا جو کتبوں کا ترجمہ کر کے ہمیں سناتا جاتا تھا۔ اُن سے وضاحت سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ لوگ مسیح کو خدا کا نبی مانتے تھے ، بیٹا بھی مانتے تھے مگر بمعنی نبی جیسا کہ بائبل میں دوسرے انبیاء کو بیٹا کہا گیا ہے۔ غرض جتنے نشان تھے عہد نامہ قدیم سے تھے اور یونس نبی کے معجزہ پر خاص طور پر زور دیا گیا تھا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی عیسی علیہ السلام کے اس معجزہ پر خاص طور پر زور دیا ہے کہ جیسا یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں زندہ داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے ۔ ایسا ہی مسیح علیہ السلام کے لیے ضروری تھا کہ زندہ ہی قبر میں داخل ہوں اور زندہ نکلیں۔ اس نشان کی ہزاروں تصاویر وہاں تھیں۔ لیکن اس قسم کی کہ مسیح سے دعا ہو کہ مسیح ہم پر فضل کرے، بہت ہی شاذ تھیں۔ اتنا ظلم ہوتا ہے کہ مسیح سے درخواست کی جاتی تھی کہ اے مسیح ! خدا سے ہمارے لیے دعا کر کہ وہ ہم پر فضل کرے۔ غرض عیسائیت کی موجودہ خرابی اسی وجہ سے نظر آتی ہے کہ وہ اپنے مرکز سے نکل کر روما چلی گئی۔ یہی خطرہ ہمارے سامنے ہے۔ ایک طرف ہم بیسیوں مبلغ تیار کر رہے ہیں، میں کانپ جاتا ہوں جب سوچتا ہوں کہ اگر چار پانچ مبلغوں کے ذریعہ سے دس بیس ہزار کی جماعت بن جاتی ہے۔ اگر سو دو سو مبلغ گئے تو دس بارہ سال میں تیس چالیس لاکھ بن جائے گی۔ اور یہ قدرتی بات ہے کہ جب اُن کا زور زیادہ ہو جائے گا تو وہ اس بات کا بھی دعوی کریں گے کہ ہم خود تبلیغ کریں گے ہم کو بھی تبلیغ کا شوق ہے۔ ہندوستان کے مبلغ کی اب ضرورت نہیں اِس کو کسی نئے علاقہ میں بھیج دیا جائے اب ہم آپ اپنے مبلغ تیار کریں گے۔ پہلے پہلے شیطان نیک خیال پیدا کر تا ہے۔ وہ پہلے تو یہ کہیں گے کہ قادیان کی حکومت سر آنکھوں پر مگر ہمیں بھی ثواب کا موقع ملنا چاہیے۔ ہندوستان کا مبلغ بیوی بچوں کو چھوڑ کر آتا ہے، اس کو کسی اور ملک میں بھیج دیا جائے۔ ہمارے ملک میں ہمارے اپنے ملک کا مبلغ مناسب رہے گا۔ تو پہلے چھوٹی سی خرابی پیدا ہوتی ہے آخر وہی بڑھتے بڑھتے کچھ کی کچھ ہو جاتی ہے اور مرکز کے دور ہونے کی وجہ سے خرابی بڑھتی جائے گی۔ پس جب تک ایک لمبے عرصہ تک تبلیغ اور تربیت میں نگرانی ہندوستان اور قادیان کی نہ