خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 437

1944ء 437 خطبات محمود نماز تہجد کے عادی ہوں۔ یہ ان کا اصل کام ہو گا جس سے سمجھا جائے گا کہ دینی روح ہمارے نوجوانوں میں پیدا ہو گئی ہے۔ قرآن کریم نے تہجد کے بارے میں اَشَدُّ وَطا 4 فرمایا ہے۔ یعنی یہ نفس کو مارنے کا بڑا کارگر حربہ ہے۔ پس خدام الاحمدیہ کو دیکھنا چاہیے کہ کتنے نوجوان با قاعدہ تہجد گزار ہیں اور کتنے بے قاعدہ ہیں۔ باقاعدہ تہجد گزار وہ سمجھے جائیں جو سو فیصدی تہجد ادا کریں۔ سوائے اس کے کہ کبھی بیمار ہوں یارات کو کسی وجہ سے دیر سے سوئیں یا سفر سے ہی واپس آئے ہوں اور صبح اٹھ نہ سکیں۔ اور بے قاعدہ وہ سمجھے جائیں جو ہفتہ میں ایک دو دفعہ ہی ادا کریں۔ باقاعدہ تہجد پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ سو فیصدی تہجد گزار ہوں إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ۔ سوائے ایسی کسی صورت کے کہ وہ مجبوری کی وجہ سے ادا نہ کر سکیں اور خدا تعالیٰ کے حضور ایسے معذور ہوں کہ اگر فرض نماز بھی جماعت کے ساتھ ادانہ کر سکیں تو قابل معافی ہوں۔ اگر یہ بات ہمارے نوجوانوں میں پیدا ہو جائے تو ان میں ایسا ملکہ پیدا ہو جائے گا کہ وہ دین کی باتوں کو سیکھ سکیں گے اور اگر یہ نہیں تو باقی صرف مشق ہی رہ جاتی ہے جو انگریز ، جرمن اور امریکن بھی کرتے ہیں۔ بلکہ وہ ہمارے نوجوانوں کی نسبت زیادہ کرتے ہیں۔ اسی طرح دیانت، محنت اور مشقت برداشت کرنے کی عادت بھی ہمارے نوجوانوں میں ہونی چاہیے۔ ہمارے ملک میں مشقت برداشت کرنے کی عادت بہت کم ہے۔ جہاں کوئی ایسا کام پیش آیا جس میں محنت اور مشقت کی ضرورت ہوتی ہے تو فوراً دل چھوڑ دیتے ہیں۔ حالانکہ ہمیں سب سے زیادہ محنت اور مشقت برداشت کرنے کی عادت کی ضرورت ہے۔ میں نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ دنیا میں ہماری نسبت چار ہزار کے مقابل میں ایک کی ہے اور جب تک ہم دوسروں کی نسبت چار ہزار گنا زیادہ کام نہ کریں کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں۔ مثل مشہور ہے کہ جتنا گڑ ڈالا جائے اُتنا ہی میٹھا ہو گا۔ پس جتنی محنت ہم کریں گے اُتنی ہی کامیابی کی امید کی جاسکتی ہے۔ جب ہمارا مقابلہ ایسے لوگوں سے ہے جو ہم سے چار ہزار گنا ہیں تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کوشش کرے کہ اُس کا کام وقت، مشق، نیک نیتی ، قربانی اور اخلاص کے لحاظ سے ایسا ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور چار ہزار افراد کے کام کے برابر شمار ہو سکے۔ تب ہم امید کر سکتے ہیں کہ ہم دنیا پر غالب ہوں گے ۔ کیونکہ گو ہم تعداد