خطبات محمود (جلد 25) — Page 436
خطبات محج محمود 436 $1944 پوری نہیں کرنے پاتے کہ وہ نماز ختم کر کے اوپر آنے لگ جاتے ہیں؟ گویا ایک رکعت کرنے سے بھی پہلے وہ دونوں رکعت سنت ادا کر لیتے ہیں اور نماز فرض کی جو رکعتیں اُن کی باقی ہوتی ہیں وہ بھی پوری کر لیتے ہیں۔نیچے عام طور پر وہی لوگ ہوتے ہیں جو بعد میں آکر جماعت میں شامل ہوتے ہیں اور جب تک میں آدھی سنتیں ادا کرتا ہوں وہ ساری نماز ختم کر کے اوپر آنا شروع کر دیتے ہیں اور دوسروں کے آدھی نماز ادا کرنے تک وہ سنتیں بھی ادا کر لیتے ہیں اور فرض بھی پورے کر لیتے ہیں۔صرف اس لیے کہ وہ آگے جگہ حاصل کر سکیں۔وہ نہ صرف اپنی نماز کو وقار اور عمدگی کے ساتھ ادا نہیں کرتے بلکہ دوسروں کی نماز بھی خراب کرتے ہیں۔حالانکہ اگر وہ قریب جگہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے انہیں پہلے آنا چاہیے۔نماز کو ہمیشہ آہستگی اور وقار کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔اسی طرح ذکر الہی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر نماز کے بعد 33 دفعہ تسبیح ، 33 دفعہ تحمید اور 34 دفعہ تکبیر کہنی چاہیے 2 اور جو لوگ نیچے سے اتنی جلدی او پر چڑھنے لگتے ہیں وہ یہ ذکر بھی ہے 3 نہیں کرتے ہوں گے۔گویا ایک تو وہ جلدی جلدی نماز ادا کرتے ہیں اور دوسرے ذکر الہی بھی ہے نہیں کرتے۔اور جو لوگ مجلس میں تو آتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے اُن کے آنے کا کیا فائدہ؟ کچھ مدت ہوئی ایک خطبہ میں نمازوں کو اچھی طرح ادا کرنے کی طرف میں نے توجہ دلائی تھی۔اُس وقت میں نے دیکھا کہ دو آدمی جو کسی گاؤں کے رہنے والے معلوم ہوتے تھے نماز کو بہت اچھی طرح ادا کر رہے تھے۔مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ گاؤں کے رہنے والے بھی و قار، آہستگی اور عمدگی سے نماز پڑھ رہے ہیں۔گاؤں کے لوگ تو سن کر عمل کرنے لگے مگر میں کس قدر افسوس کہ قادیان کے نوجوان اس طرف توجہ نہیں کرتے اور نماز جلدی جلدی ختم ہے کر کے دوڑتے ہوئے اوپر آنے لگتے ہیں اور کھٹا کھٹ کے شور سے دوسروں کی نماز بھی خراب کرتے ہیں۔صرف اس لیے کہ مجلس میں اچھی جگہ مل سکے۔حالانکہ اگر ان کی یہ خواہش ہے تو انہیں چاہیے کہ پہلے آئیں۔ایک تو پیچھے آنا پھر جلدی جلدی نماز ختم کرنا، ذکر الہی نہ کرنا اور دوسروں کی نماز بھی خراب کرنا یہ سب روحانیت کو مارنے والی باتیں ہیں۔پھر تہجد کی عادت بھی نوجوانوں میں بہت کم ہے۔خدام کا فرض ہے کہ کوشش کریں سو فیصدی نوجوان ہے